انوارالعلوم (جلد 19) — Page 34
انوار العلوم جلد ۱۹ امداد خوف اور امید کا درمیانی راسته حالت نقصان دہ ہو گی صرف وہی شخص کا میاب ہو سکتا ہے جو ان دونوں کا درمیانی راستہ اختیار ی شخص ہوسکتا کا کرے یہی تعریف قرآن کریم میں بھی مؤمن کی بیان ہوئی ہے کہ نہ تو وہ گلی طور پر خوف کی طرف اور نہ ہی گلی طور پر رجاء کی طرف جھک جاتا ہے بلکہ ان دونوں حالتوں کو اپنے اندر رکھتے ہوئے درمیانی راہ اختیار کرتا ہے۔ ان ایام میں ہم دیکھتے ہیں کہ چاہے مسلمان پنجاب اور بنگال میں اکثریت رکھتے ہیں مگر جب کبھی حقوق کا سوال اُٹھتا ہے یورپین قو میں دشمن کے حق میں اور ان کے خلاف رائے رکھتی ہیں اور انگلستان اور امریکہ وغیرہ سے بھی جو آواز اٹھتی ہے وہ عام طور پر مسلمانوں کے خلاف ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ انگلستان کے وہ اخبارات جو پہلے مسلمانوں کی تائید کیا کرتے تھے انہوں نے بھی اب تائید کرنی چھوڑ دی ہے اور پھر تائید میں لکھنا تو الگ بات ہے انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ گزشتہ فسادات کے دوران میں جب دشمن کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا اُن کا جواب دیتے لیکن جواب دینا تو در کنار جب کبھی ایسا مضمون نکلتا اور مسلمانوں کی طرف سے اس کا جواب بھیجا جاتا تو وہ اخبار اسے شائع نہیں کرتے رہے۔ گزشتہ ایام میں میں نے انگلستان میں اپنے مبلغین کو لکھا کہ تم لوگ وہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو اور تم کیوں مسلمانوں کی حمایت میں مضمون نہیں لکھتے یا ہندوؤں کے غلط پروپیگنڈا کی تردید نہیں کرتے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو سب کچھ کرتے ہیں اور مضامین بھی لکھتے ہیں لیکن یہاں کے اخبارات ہمارے مضامین چھاپتے نہیں ۔ پس عام طور پر انگلستان کے اخبارات مسلمانوں کے خلاف اور ہندوؤں کے حق میں مضامین چھاپتے رہتے ہیں اور ہمیشہ انہی کی تائید کرتے ہیں سوائے اس کے کہ کسی بڑے افسر نے تائید میں کوئی مضمون لکھا تو اسے چھاپ دیا مگر شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت انگلستان کے لوگوں کے مد نظر کوئی مصلحت ہے یا حکومت کی طرف سے انہیں ایسا کرنے کے لئے کوئی اشارہ ہے بہر حال وہ جو آواز اٹھاتے ہیں مسلمانوں کے خلاف اُٹھاتے ہیں ۔ وہ لوگ چونکہ سیاسی ہیں اس لئے وہ اپنی حکومت سے حتی الوسع تعاون کرتے ہیں یہاں کے اخباروں والے تو چونکہ سمجھتے ہیں کہ حکومت غیر ملکی ہے اس لئے اگر حکومت کے منشاء کے خلاف بھی کوئی قدم اُٹھایا تو کوئی بُری بات نہیں ہے