انوارالعلوم (جلد 19) — Page 544
انوار العلوم جلد ۱۹ لدلد سیر روحانی (۴) وولٹ کی روشنی ہے اور تمہیں اس سے کم روشنی کی ضرورت ہے تو وہ اتنی ہی روشنی دے گا یا زیادہ روشنی کی ضرورت ہو تب بھی وہ دس ہزار وولٹ سے زیادہ روشنی نہیں دے گا اور اگر اس پر پندرہ ہزار وولٹ کی روشنی ہے تو وہ پندرہ ہزار وولٹ کی روشنی ہی ہر شخص کو دے گا لیکن مینارہ محمدی میں یہ خوبی ہے کہ انسان خواہ کتنی ترقی کر جائے یہ مینا ر اس کے درجہ کے مطابق اسے روشنی دیتا چلا جاتا ہے۔ اگر تمہیں دس ہزار وولٹ کی روشنی چاہئے تو وہ تمہیں دس ہزار وولٹ روشنی مہیا کرے گا ، اگر تمہیں پچاس ہزار وولٹ کی ضرورت ہے تو وہ تمہیں پچاس ہزار وولٹ روشنی دے گا ، اگر تمہیں ایک لاکھ وولٹ کی ضرورت ہے تو وہ تمہیں ایک لاکھ وولٹ روشنی مہیا کرے گا۔ غرض روحانی ارتقاء کے راستہ میں کوئی مقام ایسا نہیں آ سکتا جہاں یہ کہا جا سکے کہ اب مینارہ محمدی سے روشنی حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے وراء الورای مقامات پر بھی اگر انسان پہنچ جائے تب بھی وہ محمد کی مینار کی روشنی کا محتاج ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ :- ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کی عظمت تھوڑے ہی دن ہوئے، ایک مسلمان اخبار میں میں نے پڑھا کہ مرزا صاحب نے حضرت مسیح ناصری کی کتنی بڑی ہتک کی ہے کہ وہ کہتے ہیں :- ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ جب تک وہ لوگ جو اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج روحانیہ کے حامل ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے بلند ترین مقامات کو طے کر چکے ہیں یہ نہ کہیں کہ ہم نے جو کچھ حاصل کیا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں حاصل کیا ہے اور یہ کہ اس قدر ترقی کرنے کے باوجود ہم اب بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام اور آپ کے خاک پا ہیں اُس وقت تک مقام محمد سی کی فضیلت کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتی اور نہ ختم نبوت کی حقیقت روشن ہو سکتی ہے۔ کوئی