انوارالعلوم (جلد 19) — Page 487
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۸۷ سیر روحانی (۴) اس حدیث کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمان اس عقیدہ میں مبتلا ہو گئے کہ مسیح مینار پر اُترے گا حالانکہ حدیثوں میں عَلَى الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ کے الفاظ نہیں بلکہ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ کے الفاظ ہیں جو ان کے اس خیال کی تردید کر رہے ہیں کہ مسیح مینار پر اُترے گا بہر حال مسلمانوں میں اس خیال کا پیدا ہو جانا کہ مسیح مینار پر اُترے گا بتاتا ہے کہ انہوں نے پُرانی روایات اور احادیث کو محفوظ کر دیا ۔ انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ حدیث میں عِنْدَ کا لفظ ہے علی کا لفظ نہیں اس کی وجہ در حقیقت یہی تھی کہ جب اسلام مصر میں پھیلا تو کئی مصری عقائد مسلمانوں میں بھی آگئے جن میں سے ایک یہ بھی عقیدہ تھا کہ ارواح مینار پر اُترتی ہیں ۔ پہلے انہوں نے سمجھا کہ مسیح آسمان سے اُترے گا پھر انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ جب روحیں مینار پر اُترا کرتی ہیں تو یہاں عِندَ کے معنے در حقیقت علمی کے ہیں ۔ اسی قسم کے بعض اور بھی عقائد ہیں جو مصریوں سے مسلمانوں نے لئے ۔ مثلاً مصری لوگ تناسخ کے قائل تھے اور یہ عقیدہ بھی مصریوں سے مسلمانوں میں آیا ۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریباً نو (۹) سال بعد ہی مصر میں ایک شخص عبداللہ بن سبا نامی پیدا ہو گیا تھا اور اُس نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح دوبارہ دنیا میں آئے گی اور وہ قرآن کریم کی کئی آیتوں سے بھی استدلال کیا بعد کرتا تھا ۔ یہ وہی شخص تھا جس نے پہلے حضرت عثمان رت عثمان رضی اللہ عنہ کے دعنہ کے خلاف بغاوت کی اور میں اس نے اور اس کے ساتھیوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی ۔ دراصل یہ مصری فلسفہ سے متاثر تھا اور مصری فلسفہ یہ تھا کہ روحیں مینار پر اُترتی ہیں ۔ شاید ان کے دلوں میں یہ خیال ہو کہ بزرگوں کی روحوں کے متعلق اگر یہ عقیدہ نہ رکھا گیا تو اس سے ان کی ہتک ہو گی اس لئے انہوں نے چاہا کہ کچھ ہم اپنے آپ کو اونچا کریں اور کچھ وہ نیچے اُتریں تا کہ اُن کا زمین پر نزول ان کے لئے ہتک کا موجب نہ ہو۔ بہر حال کسی نہ کسی خیال کے ماتحت مصریوں میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ ارواح بلند جگہوں پر اترا کرتی ہیں اور اسی غرض کے لئے وہ مینار تعمیر کیا کرتے تھے۔ روشنی کا انتظام (۲) پھر مینار اس لئے بھی بنائے جاتے تھے کہ ان پر روشنی کی جائے اور ڈور ڈور سے لوگوں کو اس سے راہنمائی حاصل ہو چنانچہ چھاؤنیوں میں