انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 463

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۶۳ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں کہ زندہ رہ کر اگر ذلت کی زندگی بسر کرنی پڑے تو اس سے ہزار درجہ بہتر یہ ہے کہ وہ اسلام کی خاطر لڑتا ہوا مارا جائے ۔ مرد اور عورت دونوں انسان ہیں عورتیں کہا کرتی ہیں کہ ہمارے حقوق ہمیں دیئے جائیں اور جب عورت اپنے حقوق مانگتی ہے تو وہ سمجھتی ہے کہ اُس کا دماغ ویسا ہی ہے جیسے مردوں کا دماغ ہے اور اُس کا دل ویسا ہی ہے جیسے مردوں کا دل ہے اور جب حقیقت یہ ہے تو کیا کوئی عورت یہ برداشت کر سکتی ہے کہ وہ ذلت کی زندگی بسر کرے؟ وہ دوسروں کی غلامی کی زندگی بسر کرے؟ وہ دوسروں کی ماتحتی کی زندگی بسر کرے؟ اگر کوئی عورت یہ برداشت نہیں کر سکتی تو ہر عورت اور ہر مرد کو یہ یا درکھنا چاہئے کہ ان کو اپنی زندگی قربان کرنی پڑے گی تب انہیں عزت اور آزادی کا یہ مقام حاصل ہوگا ۔ میں جب قادیان سے لاہور آیا تو بعض بڑے بڑے آدمی مجھ سے ملنے کے لئے آئے اور انہوں نے کہا اب تو لاہور بھی خطرہ میں ہے بتائیے کیا کیا جائے؟ میں نے کہا لا ہور کو ہی خطرہ نہیں سارا پاکستان خطرہ میں ہے۔ جب تم نے پاکستان مانگا تھا تو یہ سمجھ کر مانگا تھا کہ صرف اتنا ٹکڑہ ہمیں ملے گا اس سے زیادہ نہیں ۔ اور یہ سمجھ کر مانگا تھا کہ روپیہ ہمارے پاس کم ہوگا ، سامان ہمارے پاس کم ہو گا اور ہمیں اپنی حفاظت کے لئے بہت بڑی جدوجہد سے کام لینا پڑے گا۔ یہ نہیں کہ آپ نے مانگا زیادہ تھا اور ملاکم یا آپ نے تو ہندوستان کا اکثر حصہ مانگا تھا اور آپ کو اُس کا ایک قلیل حصہ دے دیا گیا ہے بلکہ جو کچھ آپ لوگوں نے مانگا تھا وہ قریب قریب آپ کو مل گیا ہے اور یہ خطرات جو آج آپ کو نظر آ رہے ہیں اُس وقت بھی آپ کے سامنے تھے اس لئے یہ کوئی نئے خطرات نہیں ۔ پاکستان کے لئے خطرات ضروری تھے اور اب جبکہ پاکستان قائم ہو چکا ہے پاکستان کے لئے دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہے یا تو وہ فتح پائے گا یا مارا جائے گا۔ اگر تم فتح حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہیں بھاگنے کی کوئی ضرورت نہیں اور اگر تم شکست کھانا چاہتے ہو تو یا د رکھو دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جو مغربی پاکستان کے تین کروڑ مسلمانوں کو پناہ دے سکے یا مغربی اور مشرقی پاکستان کے سات کروڑ مسلمانوں کو پناہ دے سکے ۔ مشرقی پنجاب میں سے صرف ساٹھ لاکھ مسلمان اِدھر منتقل ہوئے تھے مگر ابھی تک لاکھوں لاکھ آدمی اِدھر اُدھر پھر رہا ہے اور اُسے رہنے کے لئے کوئی ٹھکانا نہیں ملا حالانکہ وہ لاکھوں آدمی اپنی مرضی