انوارالعلوم (جلد 19) — Page 456
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۵۶ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں شروع کر دیا اور یہ دعوے کرنے لگ گئے کہ آج دشمن کو ہم مار ڈالیں گے، ہم اسے تباہ کر دیں گے، وہ ہمارے مقابلہ میں آئے تو سہی ، ہم اُسے دکھائیں گے کہ جنگ کس طرح لڑی جاتی ہے۔ جس قوم کے مقابلہ کے لئے یہ اسلامی لشکر روانہ ہوا تھا وہ بہت مشہور تیرا نداز تھی ۔ ایک پہاڑی راستہ پر اُس قوم نے دائیں بائیں اپنے تیر انداز چھپا کر بٹھا دیئے ۔ جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ فوج آگے نکل گئی وہ سینکڑوں تیرانداز جو درہ میں چھپے بیٹھے تھے انہوں نے یک دم اسلامی لشکر پر تیروں کی بوچھاڑ شروع کر دی ۔ چونکہ درہ تنگ تھا اور حملہ بالکل اچانک تھا اور آگے آگے جانے والے زیادہ تر کفار مکہ یا نو مسلم تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تیروں کی بوچھاڑ برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ ان کے گھوڑوں اور اونٹوں کے بھاگنے کی وجہ سے صحابہ کی سواریوں نے بھی بھاگنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ ایک وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد صرف بارہ آدمی رہ گئے ۔ چار ہزار کا لشکر آپ کے سامنے تھا، دشمن دونوں طرف سے تیر برسا رہا تھا اور آپ ایک تنگ درہ میں صرف بارہ صحابہ کے ساتھ کھڑے تھے کہ آپ کے گھوڑے کی باگ حضرت ابو بکر نے رت ابو بکر نے پکڑ لی اور انہوں نے کہا ، يَا رَسُولَ الله ! اب آگے جانا مناسب نہیں جب اسلامی لشکر جمع ہو جائے گا اُس وقت آگے بڑھیں اس وقت آگے جانا سخت خطرناک ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا تو آپ نے فرمایا ابوبکر ! ابوبکر میرے گھوڑے کی باگ چھوڑ دو ۔ خدا کے رسول میدانِ جنگ سے بھا گا نہیں کرتے ۔ پھر آپ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور آپ دشمن کی طرف بڑھے۔ اُس وقت آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے کہ انا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ الے میں نبی ہوں جھوٹا نہیں ۔ مگر تم میرے اس فعل کو دیکھ کر کہ میں اکیلا چار ہزار کے لشکر کی طرف بڑھ رہا ہوں اس غلط نہمی میں مبتلا نہ ہو جانا کہ میں کوئی خدائی طاقتیں اپنے اندر رکھتا ہوں ، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں اور تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں مگر خدا نے مجھ پر جو ذمہ داریاں عائد کی ہیں اُن کا تقاضا ہے کہ میں اس وقت کسی خطرہ کی پرواہ نہ کروں اور دشمن کی طرف بڑھتا چلا جاؤں ۔ پھر آپ نے حضرت عباس کو بلایا ( ان کی آواز اونچی تھی ) او بلایا ( ان کی آواز اونچی تھی ) اور اُن سے کہا کہ بلند آواز سے پکارو کہ اے انصار ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے ۔ اُس وقت آپ نے مہاجرین کا نام ۔