انوارالعلوم (جلد 19) — Page 408
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۰۸ تقریر جلسه سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۷ء مجھے مکان دکھانے کے لئے لے گیا اور ایک دوست اور بھی ہیں میں نے دیکھا وہ کچا مکان ہے اور جیسے فوجی بار کیں سیدھی چلی جاتی ہیں اسی طرح وہ مکان ایک لائن میں سیدھا بنا ہوا ہے مگر کمرے صاف ہیں میں ابھی غور کر رہا ہوں کہ جو شخص مجھے کمرہ دکھا رہا تھا اس نے خیال کیا کہ کہیں میں یہ نہ کہہ دوں کہ یہ ایک پادری کی جگہ ہے ہم اس میں نہیں رہتے ایسا نہ ہو کہ ہماری عبادت میں کوئی روک پیدا ہو چنانچہ وہ خود ہی کہنے لگا آپ کو یہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی کیونکہ یہاں مسجد بھی ہے۔ میں نے اسے کہا کہ اچھا مسجد دکھاؤ اس نے مجھے مسجد دکھائی جو نہایت خوبصورت بنی ہوئی تھی مگر چھوٹی سی تھی ہماری مسجد مبارک سے نصف ہو گی لیکن اس میں چٹائیاں اور دریاں وغیرہ بچھی ہوئی تھیں اسی طرح امام کی جگہ ایک صاف قالینی مصلی بھی بچھا ہوا تھا۔ مجھے اس مسجد کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی اور میں نے کہا کہ ہمیں یہ جگہ منظور ہے خواب میں میں نے یہ خیال نہیں کیا کہ مسجد وہاں کس طرح بنائی گئی ہے مگر بہر حال مسجد دیکھ کر مجھے مزید تسلی ہوئی اور میں نے کہا کہ اچھا ہوا مکان بھی مل گیا اور ساتھ ہی مسجد بھی مل گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد میں باہر نکلا اور میں نے دیکھا کہ اِکا دُکا احمدی وہاں آ رہے ہیں۔ خواب میں میں حیران ہوتا ہوں کہ میں نے تو ان سے یہاں آنے کا ذکر نہیں کیا تھا ان کو جو میرے یہاں آنے کا پتہ لگ گیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی محفوظ جگہ نہیں چاہے یہ دوست ہی ہیں لیکن بہر حال اگر دوست کو ایک مقام کا علم ہو سکتا ہو تو دشمن کو بھی ہو سکتا ہے محفوظ مقام تو نہ رہا۔ چنانچہ خواب میں میں پریشان ہوتا ہوں اور میں کہتا ہوں کہ ہمیں پہاڑوں میں اور زیادہ دور کوئی جگہ تلاش کرنی چاہیے۔ اتنے میں میں نے دیکھا کہ شیخ محمد نصیب صاحب آگئے ہیں ۔ میں اس وقت مکان کے دروازے کے سامنے کھڑا ہوں اُنہوں نے مجھے سلام کیا۔ میں نے ان سے کہا کہ لڑائی کا کیا حال ہے اُنہوں نے کہا دشمن غالب آ گیا ہے میں کہتا ہوں کہ مسجد مبارک کا کیا حال ہے اُنہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ مسجد مبارک کا حلقہ اب تک لڑ رہا ہے میں نے کہا اگر مسجد مبارک کا حلقہ اب تک لڑ رہا ہے تب تو کامیابی کی امید ہے میں اس وقت سمجھتا ہوں کہ ہم تنظیم کے لئے وہاں آئے ہیں اور تنظیم کرنے کے بعد دشمن کو پھر شکست دیں گے۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ کچھ اور دوست بھی وہاں پہنچ گئے ہیں ان کو دیکھ کر مجھے اور