انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 297

الفضل کے اداریہ جات انوار العلوم جلد ۱۹ سکھوں ۲۹۷ مسلمانوں کو اور پاکستان سے ہندوؤں یا سکھوں کو نکالا آئندہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے لیکن کیا اس ریزولیوشن کا ان لوگوں پر کوئی بھی اثر ہو سکتا ہے جنہوں نے پچاس لاکھ مسلمانوں کو گورنمنٹ کی آنکھوں کے سامنے پنجاب سے نکال دیا یا چالیس لاکھ ہندوؤں اور ن سے نکال دیا ۔ اگر یہ سب کے سب لوگ غیر گورنمنٹ کی آنکھوں کے سامنے پاکستان مذاہب کے ظلموں کی وجہ سے نکلے تھے تو ان ظلم کرنے والوں والوں کے خلاف دونوں حکومتوں دونوں حکومتوں نے کیا کارروائی کی ہے۔ اگر آئندہ کسی کارروائی کے کرنے کا کانگرس حکم دیتی ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ بجھتی ہے کہ ہمیں یہ طاقت حاصل ہے کہ ہم ان لوگوں کو سزا دے سکیں ۔ اور اگر واقعہ میں کانگرس یہ بجھتی ہے کہ وہ ان مجرموں کو سزا دے سکتی ہے تو کیوں وہ ان جرائم پر سزا نہیں دیتی جو اس وقت تک صادر ہو چکے ہیں ۔ مشرقی پنجاب میں اب مسلمان رہ ہی کتنے گئے ہیں آٹھ یا دس لاکھ آدمی ریفیوجی کیمپوں میں پڑے ہوئے ہیں اور جالندھر ڈویژن میں سوائے قادیان کے اور کسی گاؤں یا قصبہ میں مسلمان نہیں ۔ انبالہ ڈویژن کے بعض شہروں اور قصبوں میں مسلمان ابھی پائے جاتے ہیں لیکن نکالے جانے والوں اور مارے جانے والوں کی تعداد سے ان کی کوئی بھی نسبت نہیں ۔ پس یہ اعلان کرنا کہ یہ جو تھوڑے سے آدمی رہ گئے ہیں اگر ان پر کوئی ظلم کرے گا تو ہم سختی سے کام لیں گے ایک بے معنی سا اعلان ہے ۔ وہ لاکھوں آدمی : دمی جو مارا جا چکا ہے اور وہ ہزار ہا عورت جس کو زبردستی چھین لیا گیا ہے اور وہ اربوں روپیہ کی جائداد جو جبرا ہتھیا لی گئی ہے اگر یہ فعل براتی ا برا تھا تو کیوں اس کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی ۔ کیا یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوگی کہ ایک قصبہ جس میں سے سو مسلمان نکل چکا ہے اور دس مسلمان باقی ہیں اور ان سو مسلمانوں کے گھروں پر سکھ اور ہند و قابض ہو چکے ہیں۔ کانگرس کے اعلان کے بعد وہی ہندو اور سکھ جو پہلے مسلمانوں کو نکال کر ان کے گھروں پر قابض ہو چکے ہیں نئے آنے والے سکھوں اور ہندوؤں سے لڑ رہے ہوں گے کہ یہ جو دس مسلمان رہ گئے ہیں ان کو گھروں سے نہ نکالو کیونکہ کانگرس کا ریزولیوشن ہو گیا ہے اور جب وہ نئے آنے والے ہندو اور سکھ کہیں گے کہ تم بھی تو مسلمانوں کو نکال کر ان کے گھروں میں بیٹھے ہو تو وہ پرانے غاصب ان نئے غاصبوں کو کہیں گے کہ کانگرس کا ریزولیوشن پچھلے واقعات کے متعلق نہیں آئندہ کے واقعات کے متعلق ہے ہم نے