انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 273

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۷۳ الفضل کے اداریہ جات لیکن ہم اس کا ظاہر کرنا نہ دشمن کے نقطۂ نگاہ ۔ نگاہ سے درست سمجھتے ہیں نہ دوست ست کے نقطہ نگاہ ہ سے ، اس لئے ہم اس کو ظاہر نہیں کر سکتے ۔ مگر ہم یہ ضرور کہہ دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کو ان سامانوں کی اشد ضرورت ہے جو اس کے حصہ میں آ تو گئے ہیں لیکن ہندوستان یونین میں پڑے ہیں ۔ پاکستان کے توپ خانہ والا حصہ بہت ہی کمزور ہے نہ اس کے پاس پورا سامان ہے، نہ پورا گولہ بارود ہے، نہ مسلمان ٹرینڈ افسر ہیں کسی صورت میں بھی توپ خانہ کے حصہ کو مسلمان افسر سنبھال نہیں سکتا ۔ توپ خانہ کا بڑے سے بڑا مسلمان افسر میجر کی حیثیت رکھتا ہے حالانکہ تجربہ کار کمانڈ کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک میجر جنرل کے ہاتھ میں ہو۔ پیادہ فوج میں ایسے مسلمان افسر موجود ہیں جو یا تو میجر جنرل ہیں یا میجر جنرل بنائے جا سکتے ہیں لیکن توپ خانہ میں نہ تو چلا سکیں بڑے درجہ کے مسلمان افسر موجود ہیں نہ اتنے افسر موجود افسر موجود ہیں جو سارے توپ خانہ کے کام کو ں اور نہ اتنا سامان موجود ہے جس سے توپ خانہ کے حصہ کو محفوظ حصہ کو محفوظ سمجھا جا سکے ۔ افسر تو ہندوستان یونین ہمیں دے نہیں سکتی نہ ہم اس سے لے سکتے ہیں مگر اتنی کمزوری کے باوجود اگر سامان کی بھی کمزوری پیدا ہوگئی تو اس کا نتیجہ ظاہر ہے۔ پس ہمارے نزدیک مسلمان پبلک کو ایک آواز کے ساتھ پاکستان گورنمنٹ پر زور دینا چاہیئے کہ وہ برطانوی گورنمنٹ پر زور دے کہ وہ ہندوستان یونین کے معاہدہ کے توڑنے کی بناء پر وہ سپریم کمانڈ کو توڑنے کا کوئی حق نہیں رکھتی ۔ اسے یا تو ہندوستان یونین سے ہمارا سامان تمہیں نومبر سے پہلے دلوانا چاہئے یا اپنے پاس سے وہ سامان ہم کو دینا چاہئے ۔ نہیں تو اگر اس کے اندر کوئی شرافت باقی ہے تو اسے صاف کہہ دینا چاہئے کہ سپریم کمانڈ کو نہیں تو ڑا جائے گا ، جب تک پاکستان کا کل سامان ہندوستان یونین اس کو ادا نہیں کر دیتی ۔ جونا گڑھ، انڈین یونین اور گاندھی جی گاندھی نے اور نومبر کی شام کو پرارتھنا اس کے بعد تقریر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ :۔ کل کے اخبارات میں مندرجہ بیانات کے مدنظر جونا گڑھ کے وزیر اعظم اور نائب وزیر کا ہندوستانی حکومت کو ریاست جونا گڑھ کے اختیارات سونپ دینا میرے نزدیک ہرگز