انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 266

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۶۶ الفضل کے اداریہ جات دینے کا فیصلہ صرف کشمیر کی خاطر نہیں کیا گیا بلکہ اس لئے کیا گیا ہے کہ صوبہ سرحد کے ساتھ ہندوستان یونین کا تعلق قائم ہو جائے ۔ صوبہ سرحد میں سرخ پوشوں (RED SHIRTS) کے ذریعہ سے کانگرس کی تائید میں ایک جال پھیلایا گیا ہے۔ عبدالغفار خان کے کے ذریعہ سے لاکھوں روپیہ کا نگرس سرحد پر تقسیم کر رہی ہے۔ نومبر ۱۹۴۶ء میں بعض انگریز اور امریکن اخبار نویسوں نے ہمارے نمائندہ سے خواہش کی تھی کہ وہ اس بات کا پتہ لے کہ فقیرا ہی حقیقت میں کانگرس کے ساتھ ہے یا مسلم لیہ ہے یا مسلم لیگ کے ساتھ اس پر ہمارا نمائندہ پشاور اور پشاور سے ہوتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان گیا تھا وہاں اسے ایک ذمہ دار افسر نے فقیراپی کے ایک رشتہ کے بھائی سے ملوایا اور اس نے یہ بات بیان کی کہ چند دن پہلے کانگرس کا ایک نمائندہ پینتالیس ہزار روپیہ لے کر فقیر اپنی کو دینے کیلئے گیا ہے مگر ساتھ ہی اس نے یہ بات بھی بڑھا دی کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ فقیرا ہپی بڑے جوشیلے مسلمان ہیں ، وہ کانگرس کا روپیہ نہیں لیں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ اُنہوں نے روپیہ لیا اور اب وہ کانگرس کی طرف سے کام کر رہے ہیں ۔ - اب تین طاقتیں پاکستان کے خلاف صوبہ سرحد میں کام کر رہی ہیں ۔ پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبہ میں سرخ پوشوں کی جماعت ، آزاد سرحد میں فقیراپی کے لوگ اور افغانستان میں وہ پارٹی جو افغانستان کی سرحدوں کو سندھ تک بڑھا دینے کی تائید میں آوازیں اُٹھا رہی ہے۔ افغانستان کی فوجی طاقت ہرگز اتنی نہیں کہ وہ پاکستان میں داخل ہو کر سندھ کو فتح کر سکے ۔ یہ فریب اسے ہندوستان کے بعض آدمیوں نے دیا ہے اور سکیم یہ ہے کہ خدا نخواستہ اگر کشمیر کی آزادی کی تحریک کو کچل دیا جائے اور ہندوستان یونین کا اثر کشمیر کی آخری سرحدوں تک پہنچ جائے تو وہاں سے روپیہ اور اسلحہ شمال مغربی صوبہ میں پھیلایا جائے اور سرحد پار کے قبائل میں پھیلایا جائے ۔ اس اسلحہ اور رو اسلحہ اور روپیہ کے قبول کرنے کیلئے زیبا زمین تیار ہے اور اس اسلحہ اور روپیہ کو پھیلانے کیلئے آدمی بھی میسر ہیں ۔ جب یہ سکیم مکمل ہو جائے گی تو اُدھر سے سرحد میں بغاوت کرا دی جائے گی ۔ ادھر سے فقیراپی کے ساتھ سرحدی صوبہ میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے اور تیسری طرف کشمیر کی طرف سے ڈوگرے اور سکھ سپاہی فوج سے چوری بھاگ بھاگ کر ضلع ہزارہ اور راولپنڈی پر حملے شروع کر دیں گے۔ نتیجہ ظاہر ہے پاکستان کی حالت اگر مشرقی سرحد -