انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 246

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۴۶ الفضل کے اداریہ جات تجسس شروع کر دیتے ہیں ۔ ہمارے نزدیک مسلمانوں کو اپنے فائدہ کے لئے اس سے بچنا چاہئے ۔ کام کرنے والے نا تجربہ کار ہیں آگے ہی ان پر حد سے زیادہ بوجھ ہے ۔ اگر ان سے یہ امید کی جائے کہ وہ ہر تجویز کو علی الاعلان بیان کریں تو وہ کام کر ہی کس طرح سکتے ہیں ۔ اگر یہی کنسوئیاں لینے اور ہر کسی کے پھٹے میں پاؤں اُڑانے کا سلسلہ جاری رہا تو کشمیر کی آزادی کی بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی ۔ ہمارے نزدیک اس وقت خبر دینے والوں اور خبریں لینے والوں اور خبریں چھاپنے والوں کا سب سے اہم فرض یہ ہونا چاہئے کہ سچی خبریں دیں ۔ سچی خبریں سنیں اور سچی خبریں چھا ہیں ۔ ہمارے بعض اخبارات میں کشمیر کی فتوحات کے متعلق بعض خبر یں قبل از وقت شائع ہو گئیں ۔ اخبارات تو مجبور تھے ان کو جو خبریں آئیں انہوں نے چھاپ دیں لیکن خبر میں بھجوانے والے خدا تعالیٰ کو کیا منہ دکھائیں گے۔ ان کی غلط خبروں نے آخر قوم کے حوصلہ کو پست کرنا شروع کر دیا جو لوگ دس دن پہلے سے سرینگر کی فتح اور ایروڈ روم کے قبضہ کی خبریں سنا رہے تھے جب دن کے بعد دن گزرتا گیا اور وہ اپنے سروں پر ہندوستان کے ہوائی جہازوں کو اُڑتے ہوئے دیکھتے رہے اور تازہ دم فوجوں کے پہنچنے کی خبریں سنتے رہے اور سرینگر میں شیخ محمد عبداللہ اور اُن کی گورنمنٹ کے کام کی اطلاعات پڑھتے رہے اور مسٹر پٹیل آلے اور سردار بلدیو سنگھ کے سرینگر کے دورہ کا حال انہوں نے پڑھا تو انہوں نے لازمی طور پر یہ سمجھا کہ آزاد کشمیر کی فوجیں کشمیر فتح کرنے کے بعد شکست کھا گئی ہیں اور واپس لوٹ آئی ہیں ۔ کشمیر ایک ملک ہے اور ملکوں کا فتح کرنا چند دن کا کام نہیں ہوتا ۔ بارہ مولا پر آزاد فوجوں کا قبضہ دیر سے ہوا ہوا ہے ۔ اگر آج بھی اس بات کا اعلان کیا جاتا کہ بارہ مولا آج فتح ہوا ہے تو یہ بہت بڑا کارنامہ ہوتا اور یقیناً مسلمانوں کے حوصلے اس سے گھٹتے نہ بلکہ بڑھتے لیکن سرینگر کی فتح کی خبریں سننے کے دس دن بعد یہ خبریں سننا کہ ابھی مجاہد فوج بارہ مولا کے ارد گرد پھر رہی ہے اور یہ کہ ہندوستانی یونین کی فوجیں برابراڈہ میں اُتر رہی ہیں ایک سخت ہمت توڑنے والی بات تھی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اپنی زبان چاٹنے والے چیتے کی طرح وہ لوگ بھی جو حقیقت حال سے واقف تھے پہلے تو ان خبروں کے اشاعتی اثر کا خیال کر کر کے مزے لیتے رہے مگر کچھ دنوں کے بعد خود ہی روایتی چیتے کی طرح