انوارالعلوم (جلد 19) — Page 217
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۱۷ الفضل کے اداریہ جات سیاست ۔ ست سے ناوا میں تھے اُن سے ملنے کے لئے گئے اور اُن کی وساطت سے سلطان ابن سعود سے بھی ملے ۔ ان لوگوں نے پنجاب کے واقعات ہائکہ سلطان اور ان کے وزیروں اور شہزادوں کو سنائے ۔ اس کے جواب میں سلطان ابن سعود اور ان کے وزیروں نے کہا کیا وجہ ہے کہ پاکستان حکومت اپنا سفیر ہمارے ہاں نہیں بھجواتی تاکہ ہم لوگوں کو بھی پاکستان کے حالات معلوم ہوتے رہیں اور موقع مناسب پر ہم ان کی تائید میں آواز بلند کر سکیں ۔ پھر اُنہوں نے ایک معزز ہندوستانی سے کہا کہ اگر وہ اپنا سفیر باہر سے نہیں بھیجو اسکتی تو کیوں تم کو ہی وہ اپنا سفیر یہاں مقرر نہیں کر دیتی ۔ نا واقف لوگ شاید اس فقرہ کا مطلب نہ سمجھ سکیں ۔ بات یہ ہے کہ یورپ کی اکثر چھوٹی اور غریب حکومتیں جو زیادہ سفارتوں کا بار نہیں اُٹھا سکتیں اپنی رعایا کے بعض افراد کو جو تجارتوں کی وجہ سے یا پیشوں کی وجہ سے دوسرے ممالک میں رہتے ہیں اپنے فضل مقرر کر دیتی ہیں کچھ خرچ ماہوارا نہیں دفتر اور خط و کتابت اور کلرکوں کے لئے دے دیتے ہیں اور اس طرح ان کے حقوق اس ملک میں محفوظ کرنے کا ایک ذریعہ نکل آتا ہے۔ وہ تاجر اور پیشہ ور اس لئے اس کام کو قبول کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے اُس کی حیثیت اُس علاقہ میں بہت بڑھ جاتی ہے اور کئی قسم کے فائدے حاصل کر لیتا ہے اور اسے مقرر کرنے والی حکومت کو یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ بغیر زیادہ خرچ کرنے کے اُس کا نمائندہ اُس ملک میں مقرر ہو جاتا ہے ۔ سلطان ابن سعود مغربی تعلیم سے نابلد ہی سہی مگر وہ عملی سیاسیات کو خوب سمجھتے ہیں اس لئے انہیں تعجب ہوا کہ اگر پاکستان کی حکومت زیادہ روپیہ نہیں خرچ کر سکتی تو عرب میں رہنے والے ہندوستانی کو تو اپنا قائمقام مقرر کر سکتی ہے تا کہ وہ محکمانہ طور پر اپنے ملک کے معاملات سے سعودی عرب کو واقف کرتا رہے۔ آخر حکومتیں اخباری خبروں پر تو کوئی احتجاج نہیں کر سکتیں وہ اُسی وقت احتجاج کرتی ہیں جب ان کو سیاسی راستوں سے اطلاع دی جائے اگر سیاسی سفیر یا قضل نہ ہوں تو با قاعدہ طور پر دوسری حکومت کے سامنے حالات نہیں پہنچ سکتے اور وہ حکومت بھی آئینی طور پر ان کے متعلق کوئی کارروائی نہیں کر سکتی ۔ اگر پاکستان کے نمائندے سعودی عرب ، عراق ، شام ، ٹرکی ، ایران اور مصر میں ہوتے اور مقررہ سیاسی رستوں سے ان حکومتوں کو اپنی مشکلات سے اطلاع دیتے تو وہ حکومتیں بطور حکومت ہندوستانی حکومت کے سامنے احتجاج کرتیں اور اس کا اثر ساری دنیا کی