انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 215

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۱۵ الفضل کے اداریہ جات ہوا ۔ یہ ملک انڈونیشیا، ایبے سینیا اور سعودی عرب ہیں ۔ انڈو نیشیا دوسرا بڑا اسلامی ملک ہے جس میں مسلمانوں کی آبادی چھ کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔ پھر اس کا مقام وقوع ایسی جگہ پر ہے کہ اس سے تعلقات آئندہ پاکستان کی ترقی اور حفاظت میں بہت کچھ مد ہو سکتے ہیں لیکن جبکہ ہندوستان یونین اس کے ساتھ تعلق بڑھا رہی ہے پاکستان حکومت نے اب تک پوری جدوجہد سے کام نہیں لیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمانوں کو مسلمانوں سے پیار ہے اور وہ ایک دوسرے سے ہمدردی رکھتے ہیں لیکن سیاسی معاملات کچھ ایسے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ دوست دشمن بن جاتے ہیں اور دشمن دوست بن جاتے ہیں اور صرف مذہبی اتحاد اتحاد کو سیاسی سی اتحاد کا پورا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا ۔ جرمنی بھی عیسائی تھا اور انگلستان بھی عیسائی تھا مگر پھر بھی یہ دونوں لڑتے تھے۔ پس ہمیں اس بات پر اعتماد کر کے نہیں بیٹھ جانا چاہئے کہ انڈو نیشیا کے لوگ مسلمان ہیں اس لئے بغیر کسی جد و جہد کے ہما ہمارا ان سے دوستان دوستانہ قائم رہے گا ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض دوسری حکومتیں ان پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ انڈونیشیا کا فائدہ ان حکومتوں کے ساتھ تعلقات پیدا کرنے میں زیادہ ہے اور پاکستان کے ساتھ تعلق پیدا کرنے میں کم ہے۔ اگر ایسا ہوا اور اس کوشش میں وہ کامیاب ہو گئے تو یقیناً با وجود مسلمان ہونے کے انڈونیشیا کے لوگ اپنے سیاسی فوائد کی خاطر پاکستان کی طرف سے ہٹ جائیں گے اور ان دوسری حکومتوں کی طرف جھک جائیں گے۔ اس قسم کی کوشش انڈین یونین کی طرف سے شروع ہے۔ انڈین یونین کے افسر کوئی موقع نہیں جانے دیتے جس میں وہ انڈونیشیا کے وزراء کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش نہ کریں۔ ہمیں لنڈن سے اطلاع ملی ہے کہ سلطان شہر یار حال ہی میں امریکہ سے واپسی پر انگلستان سے گزرے اور با وجود پاکستانی ہائی کمشنر کی موجودگی کے وہ ہندوستانی یونین کے ہائی کمشنر مسٹر منین کے گھر پر ان کے مہمان ٹھہرے۔ انسان اسی کے گھر پر ٹھہر نا پسند کرتا ہے جس کا وہ دوست ہوتا ہے اور جس کو میزبانی کا موقع ملے وہ مہمان پر دوسروں سے زیادہ اثر ڈال سکتا ہے۔ سلطان شہر یار کو یقیناً ہندوستان کے ہائی کمشنر نے اپنے ہاں ٹھہرنے کی دعوت دی ہوگی ۔ اگر پاکستان کا ہائی کمشنر بھی ایسا کرتا تو سلطان شہر یار یقیناً ان کے ہاں ٹھہرنے کو ترجیح دیتے ۔ ہمارے نزدیک تمام پاکستانی سفراء اور ہائی کمشنروں کو ہدایت جانی چاہئے کہ وہ تمام اسلامی ممالک کے نمائندوں ، سفیروں ،