انوارالعلوم (جلد 19) — Page 209
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۰۹ الفضل کے اداریہ جات محلہ پر زور بڑھا تو مرکزی محلہ کی حفاظت کیلئے معتین اشارہ کیا گیا مگر اُس وقت تک بہت سے محلہ مگر اس بیرونی محلوں کو پولیس اور ایک حد تک ملٹری کے حملے صاف کروا چکے تھے ۔ حملہ آوروں کی ۔ بہادری کا یہ حال تھا کہ سات گھنٹے کے حملہ کے بعد جب جوابی حملہ کا بگل بجایا گیا تو پانچ منٹ کے اندر پولیس اور حملہ آور جتھے بھاگ کر میدان خالی کر گئے ۔ ان حملوں میں دوسو سے زیادہ آدمی مارے گئے لیکن ان کی لاشیں جماعت کو اُٹھانے نہیں دی گئیں تا ان کی تعداد کا بھی علم نہ ہو سکے اور ان کی شناخت بھی نہ ہو سکے بغیر جنازہ کے اور بغیر اسلامی احکام کی ادائیگی کے یہ لوگ ، ظالم مشرقی رقی پولیس کے ہاتھوں مختلف گڑھوں میں دبا دیئے گئے تا کہ دنیا کو اُس ظلم کا اندازہ نہ ہو سکے جو اُس دن قادیان میں مشرقی پنجاب کی پولیس نے کیا تھا۔ مشرقی پنجاب کے بالا حکام سے جو ہمیں اطلاع ملی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقامی حکام نے مرکزی حکام کو صرف یہ اطلاع دی کہ سکھ جتھوں نے احمدی محلوں پر حملہ کیا ۔ تمیں آدمی سکھ جتھوں کے مارے گئے اور تمہیں آدمی احمدیوں کے مارے گئے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دوسو سے زیادہ قادیان میں احمدی مارے گئے جن میں کچھ غیر احمدی بھی شامل تھے جیسا کہ آگے بتایا جائے ئے گا گا اور اور سکھ س بھی تھیں ۔ ں سے زیادہ مارے گئے کیونکہ گو اس غلطی کی وجہ سے جو اوپر بیان ہو چکی ہے منتظم مقابلہ نہیں کیا لیکن مختلف آدمی بھی حفاظتی چوکیوں پر تھے انہوں نے اچھا مقابلہ کیا اور بہت سے حملہ آوروں کو مارا ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جب باہر سے پولیس اور سکھ حملہ کر رہے تھے اور ملٹری بھی ان کے ساتھ تھی ( گو کہا جاتا ہے کہ ملٹری کے اکثر سپاہیوں نے ہوا میں فائر کئے ہیں ) اُس وقت کچھ پولیس کے سپاہی محلوں کے اندر گھس گئے اور انہوں نے احمدیوں کو مجبور کیا کہ یہ کرفیو کا وقت ہے اپنے گھروں میں گھس جائیں چنانچہ ایک احمدی گریجوایٹ جو اپنے دروازے کے آگے کھڑا تھا اُسے پولیس مین نے کہا کہ تم دروازے کے باہر کیوں کھڑے ہو؟ جب اس نے کہا کہ یہ میرا گھر ہے میں اپنے گھر کے سامنے کھڑا ہوں تو اُسے شوٹ کر دیا گیا اور جب وہ تڑپ رہا تھا تو سپاہی نے سنگین سے اُس پر حملہ کر دیا اور تڑپتے ہوئے جسم پر پر سے سنگین مار مار کر اُسے مار دیا۔ اس کے بعد بہت سے محلوں کوٹوٹ لیا گیا اور اب ان کے اندر کسی ٹوٹے پھوٹے سامان یا بے قیمت چیزوں کے سوا کچھ باقی نہیں ۔ مرکزی حصہ پر جو حملہ ہوا اس میں ایک شاندار واقعہ ہوا ہے جو قرون اولیٰ کی قربانیوں کی یاد دلاتا