انوارالعلوم (جلد 19) — Page 197
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۹۷ الفضل کے اداریہ جات احمد یہ جماعت کو بہت سی قربانی کرنی پڑے گی اور بظاہر دنیا کو وہ بیکار نظر آئے گی لیکن جیسا کہ ہم نے اوپر بتایا ہے حقیقت میں وہ بے کار نہیں ہوگی ۔ وہ قربانی جو قادیان کے احمدی پیش کریں گے وہ پاکستان کی جڑوں کو مضبوط کرنے میں کام آئے گی اور اگر ہندوستان یونین نے اب بھی اپنا رویہ بدل لیا تو اس کا یہ رویہ ایک پائدار صلح کی بنیا د رکھنے میں محمد ہو گا ۔ جماعت احمد یہ کمزور ہے اور ایک علمی جماعت ہے وہ فوجی کاموں سے نا واقف ہے لیکن وہ اسلام کی عزت قائم رکھنے کیلئے اپنے ناچیز خون کو پیش کرنے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ ہمارے سینکڑوں عزیز بھا گئے ہوئے نہیں اپنے حق کا مطالبہ کرتے ہوئے مارے گئے ہیں اور شاید اور بھی مارے جائیں کم سے کم لوکل حکام کی نیت یہی معلوم ہوتی ہے کہ سب کے سب مارے جائیں لیکن ہم خدا تعالیٰ سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کرے گا اور ہمارے دلوں کو صبر اور ایمان بخشے گا۔ ہمارے مارے جانے والوں کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی ۔ وہ ہندوستان میں اسلام کی جڑوں کو مضبوط کرنے میں کام آئیں گی خدا کرے ایسا ہی ہو۔ خاکسار مرزا محمود احمد الفضل لاہور ۷ اکتوبر ۱۹۴۷ء ) ہم قادیان کے متعلق پہلے کچھ حالات لکھ چکے ہیں ہم بتا چکے ہیں کہ قادیان اور مشرقی پنجاب کے دوسرے شہروں میں فرق ہے ۔ قادیان کے باشندے قادیان میں رہنا چاہتے ہیں لیکن مشرقی پنجاب کے دوسرے شہروں کے باشندوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ مشرقی پنجاب میں نہ رہیں ۔ ہندوستان یونین کی گورنمنٹ بار بار کہہ چکی ہے کہ ہم کسی کو نکالتے نہیں لیکن قادیان بار کہ ہم ندر ہیں ۔ ہندوستان یونین کی گورنمنٹ کے واقعات اس کے اس دعوی کی کامل طور پر تردید کرتے ہیں ۔ حال ہی میں قادیان کے کچھ ذمہ دار افسر گورنمنٹ افسروں سے ملے اور باتوں باتوں میں ان سے کہا کہ آپ لوگ اپنی پالیسی ہم پر واضح کر دیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم قادیان کو چھوڑ دیں تو پھر صفائی کے ساتھ اس بات کا اظہار کر دیں۔ افسر مجاز نے جواب دیا کہ ہم ایسا ہر گز نہیں چاہتے ہم چاہتے ہیں کہ آپ قادیان میں رہیں ۔ جب اُسے کہا گیا کہ وہ کہاں رہیں پولیس اور ملٹری کی مدد سے سکھوں