انوارالعلوم (جلد 19) — Page 194
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۹۴ الفضل کے اداریہ جات ہوا کہ قادیان کا کوئی شخص ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو فون کر رہا ہے وہ ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو یہ اطلاع دے رہا تھا کہ دو دن سے یہاں گولی چلائی جا رہی ہے قادیان کے دو محلوں کو لوٹا جا چکا ہے اور سے? ان محلوں کے احمدی سمٹ کر دوسرے محلوں میں چلے گئے ہیں اور یہ گولی پولیس اور ملٹری کی طرف سے چلائی جا رہی ہے۔ اس خبر کے سننے کے بعد ڈ پٹی کمشنر سیالکوٹ نے ڈپٹی کمشنر گورداسپور سے پوچھا کہ آپ نے یہ بات سنی؟ اب آپ کا کیا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا ہمیں یہ تو اطلاع تھی کہ بھینی پر سکھ حملہ کر رہے ہیں مگر یہ اطلاع نہیں تھی کہ قادیان پر سکھ حملہ کر رہے ہیں گو یا بھینی میں انسان نہیں بستے اور وہ ہندوستان یونین کے شہری نہیں اور اس لئے بھینی میں مسلمانوں کا خون بالکل ارزاں ہے اس پر ڈی سی سیالکوٹ نے کہا اب آپ کیا کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ تو ڈی سی گورداسپور نے جواب دیا کہ میں کل سپرنٹنڈنٹ پولیس کو وہاں بھجواؤں گا۔ ڈی سی سیالکوٹ نے اُن کو کہا یہ اس قسم کا اہم معاملہ ہے کہ اس میں آپ کو خود جانا چاہئے آپ خود کیوں نہیں جاتے؟ انہوں نے کہا اچھا میں خود ہی جاؤنگا ۔ اس کے بعد قادیان سے فون پر حالات معلوم کرنے کی کوشش کی گئی اور اتفا قانون مل گیا جو اکثر نہیں ملا کرتا ۔ اس فون کے ذریعہ جو حالات معلوم ہوئے ہیں وہ یہ ہیں کہ کل تک ۱۵۰ آدمی مارا جا چکا ہے جن میں سے دو آدمی مسجد کے اندر مارے گئے ہیں ۔ احمد یہ کالج پر بھی پولیس اور ملٹری نے قبضہ کر لیا ہے اور دو احمدی محلے لٹوا دیئے ہیں دارالانوار اور دارالرحمت ، دارالانوار میں سر ظفر اللہ خان کی کوٹھی بھی اور امام جماعت احمد یہ کا بیرونی گھر بھی لوٹا گیا ہے ۔ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ اب ان باتوں کا نتیجہ کیا ہو گا ؟ جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں احمد یہ جماعت کا یہ مسلک نہیں کہ وہ حکومت سے ٹکر کھائے اگر سکھ جتھے ایک ایک احمدی کے مقابلہ میں سو سو سکھ بھی لائیں گے تو قادیان کے احمدی ان کا مقابلہ کریں گے اور آخر دم تک ان کا مقابلہ کریں گے لیکن جہاں جہاں پولیس اور ملٹری حملہ کرے گی وہ ان سے لڑائی نہیں کریں گے اپنی جگہ پر چمٹے رہنے کی کوشش کریں گے مگر جس جگہ سے ملٹری اور پولیس ان کو زور سے نکال دے گی اُس کو وہ خالی کر دیں گے اور دنیا پر یہ ثابت کر دیں گے کہ ہندوستان یونین کا یہ دعوی بالکل جھوٹا ہے کہ جو ہندوستان یونین میں رہنا چاہے خوشی سے رہ سکتا ہے۔