انوارالعلوم (جلد 19) — Page 186
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۸۶ الفضل کے اداریہ جات جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کر سکیں ۔ حالانکہ ان کے گھر کوئی خاص طور پر بے حفاظت نہیں وہ صرف بھاگ کر اپنی جانیں بچانا چاہتے ہیں ۔ مخالفت قرآن کریم کی یہ آیات آجکل پورے طور پر قادیان کے احمدیوں پر اور باقی دنیا کے احمد یوں پر چسپاں ہو رہی ہیں ۔ قادیان پر اس کے اوپر سے بھی حملہ ہو رہا ہے یعنی حکام بھی اس ہورہی ۔ رہے ہیں اور نیچے سے بھی حملہ ہورہا ہے یعنی سکھ آبا دی اس کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ آج غم اور صدمہ سے لوگوں کی آنکھیں ٹیڑھی ہوتی چلی جاتی ہیں اور دل واقعہ میں اچھل اچھل کر گلے میں اٹک رہے ہیں اور کئی لوگوں کے دلوں میں یہ شہبات پیدا ہو ر ہے ہیں کہ کیا احمدیت واقعہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی اور کیا انہوں نے اس کے قبول کرنے میں غلطی تو نہیں کی ؟ مؤمنوں کے لئے آج ڈہری مصیبت ہے ایک طرف حکام اور رعایا کے ظلموں سے بچنے کیلئے امن پسندانہ کوششیں اور ہتھیلیوں پر جانیں رکھ کر اپنے مقامات مقدسہ کی حفاظت کا فکر اور دوسری طرف اس قسم کے لوگوں کی باتوں کا جواب دینا اور ان چھپے دشمنوں کے خنجروں کو اپنے سینوں میں بغیر آہ کے چھنے دینا مگر یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم ہونے والے سلسلوں سے ہمیشہ ہی یہ سلوک ہوتا چلا آیا ہے۔ دیکھ لو قر آن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی باتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کو پیش آئیں مگر کیا وہ گھبرائے؟ کیا ان کے قدموں میں کسی قسم کا تزلزل پیش آیا؟ بجائے اس کے کہ ان واقعات کو دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے متعلق ان کے دلوں میں کوئی شبہ پیدا ہوتا ان کے دل ایثار اور قربانی کے جذبات سے اور بھی زیادہ متاثر ہوتے گئے ۔ ان کے ایمانوں کی یہ کیفیت تھی کہ دشمن کا پندرہ سے بیس ہزار تک کا لشکر جو صرف سات سو مسلمانوں کے مقابل پر رات اور دن حملے کر رہا تھا نہ دن کو آرام کرنے دیتا تھا نہ رات کو سونے دیتا تھا جب اُس چھوٹی سی خندق کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ مل کر مدینہ کی حفاظت کے لئے کھو دی ہوئی تھی گھوڑوں پر چڑھ کر عبور کر لیتا تھا اور دشمن کے جتھے جنون کی سی کیفیت کے ساتھ اور آندھی کی سی تیزی کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ وسلم کے خیمہ کی طرف بڑھتے تھے تا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے اسلام کا خاتمہ کر دیں تو باوجود اسکے کہ