انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 181

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۸۱ الفضل کے اداریہ جات سے پناہ گزینوں کے لانے کے لئے ٹرکوں کے جو قافلے جائیں گے ان کے کام میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی لیکن باوجود اس معاہدہ کے جو ٹرک پاکستان سے ہندوستان میں جاتے ہیں ان کے کام میں ہندوستان کے افسر دخل اندازی کرتے ہیں۔ چنانچہ قادیان میں تو یہاں تک کیا گیا کہ پاکستانی گورنمنٹ کی بھیجی ہوئی لاریوں میں قافلوں کے افسر نے جو سواریاں چڑھائیں ان کو زبردستی ملٹری کے کیپٹن نے اتار دیا اور کہا کہ جن لوگوں کو میں بٹھاؤں گا وہ جائیں گے اور جن لوگوں کو میں نہیں بٹھاؤں گا وہ نہیں جائیں گے Evacuation کے محکمہ کو اس طرف توجہ دلائی گئی اسی طرح ملٹری افسروں کو اس طرف توجہ دلائی گئی تو انہوں نے میجر جنرل چمنی سے فون پر بات کی انہوں نے کہا مقامی افسر کو ایسا کوئی حق نہیں ہم اس کو سمجھا دیں گے لیکن اس کے بعد پانچ قافلے متواتر گئے ہیں اور پانچوں کے ساتھ اس نے متواتر یہی معاملہ کیا ہے۔ یہی حال دوسری جگہوں پر بھی ہوتا رہا ہے اس معاملہ کے متعلق پناہ گزینوں کے محکمہ کو پاکستان کے محکمہ خارجہ کے پاس فورا رپورٹ کرنی چاہئے تھی اور حکومت پاکستان کے محکمہ خارجہ کو فوراً اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنی چاہئے تھی اور کہنا چاہئے تھا کہ لا ریاں ہماری ، آدمی ہمارے تم کون ہو جو فیصلہ کرو کہ فلاں آدمی لاریوں میں بیٹھیں ، فلاں نہ بیٹھیں اور یہ کہ اگر تم اپنے رویہ کو نہ بدلو گے تو ہم اپنی طرف بھی تمھارے ساتھ یہی سلوک کریں گے۔ جو ہوائی جہاز خاص لوگوں کو لینے کے لئے آتے ہیں ان میں دوسرے لوگوں کو بٹھا دیں گے اور ان کو بیٹھنے نہیں دیں گے جن کو تم بٹھانا چا ہو۔ اگر حکومت پاکستان کا محکمہ خارجہ اس پر احتجاج کرتا تو ہندوستانی یونین کو فوراً ہوش آ جاتی اور وہ ان نالائق افسروں کو سزا دیتی جو ایسی غیر آئینی کار روائی کر رہے ہیں اور ساری مہذب دنیا پاکستان کی تائید کرتی اور اس کو اپنے مطالبہ میں حق بجانب سمجھتی ۔ ریاستوں کے معاملہ میں بھی اپنے حقوق کی پوری طرح حفاظت نہیں کی گئی ۔ جونا گڑھ کی ریاست نے پاکستان کی حکومت کے ساتھ ملنے کا فیصلہ کیا اور دونوں میں معاہدہ بھی ہو گیا اس معاہدہ کے بعد ہندوستانی یونین نے اپنا ایک پولیٹکل سیکرٹری ریاست جونا گڑھ سے بات کرنے کے لئے ریاست جونا گڑھ میں بھجوایا اور ان سے مطالبہ کیا کہ ہندوؤں کے حقوق میں کسی قسم کی