انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 158

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۵۸ صلی رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات ناراض نہ ہو جائیں حضرت ابوبکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رَسُولَ الله! میں فلاں جگہ سے گزر رہا تھا تو میں نے سنا کہ فلاں فلاں ابتدائی ایمان لانے والوں نے (حضرت ابوبکر نے چند غلاموں کا نام لیا ) ابوسفیان کے متعلق بعض سخت الفاظ کہے ہیں حضرت ابو با ابوبکرؓ کا تو یہ خیال تھا کہ آپ ان ہتک کرنے والوں کو ڈانٹیں گے مگر آپ کے چہرے پر ناراضگی کے آثار پیدا ہوئے اور آپ نے فرمایا ابوبکر ! اگر تم نے کوئی بات کہہ کر اُن کا دل دُکھایا ہے تو تم نے ان کا دل نہیں دکھایا بلکہ خدا تعالیٰ کا دل دُکھایا ہے اور اگر وہ تم پر نارض ہیں تو خدا تعالیٰ بھی تم پر ناراض ہے۔ حضرت ابو بکر اُسی وقت اُٹھ کر اس مجلس میں گئے اور ان لوگوں سے پوچھا کہ آپ مجھ پر ناراض تو نہیں ہیں؟ اور جب انہوں نے کہا کہ نہیں نہیں نا راضگی کی کیا بات ہے تو حضرت ابوبکر کو تسلی ہوئی ۔ ۲۵ غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کی وجہ سے غلام غلام نہ رہے تھے بلکہ وہ دوسرے رؤساء رؤساء سے سے بھی بڑھ کر معزز اور مکرم ہو گئے تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ اللہ علیہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو وہ اعزاز بخشا جو عرب کے بڑے بڑے رؤساء کو بھی حاصل نہ تھا۔ جب فتح مکہ کے وقت آپ شہر میں داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا جو شخص خانہ کعبہ میں داخل ہو جائے گا اسے پناہ دی جائے گی ، جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گا اسے بھی امن دیا جائے گا پھر آپ نے اسلامی جھنڈا ایک شخص کے ہاتھ میں دے کر فرمایا یہ بلال کا جھنڈا ہے جو شخص بلال کے جھنڈے کے نیچے آجائے گا اُس کو بھی امن دیا جائے گا ۔ ہے یہ وہی بلال تھا جسے وہ لوگ تپتی ہوئی ریت پر لٹایا کرتے تھے، جسے مکہ کے پتھر ملے میدان میں گرم پتھروں پر ننگا کر کے لٹا دیتے تھے اور سینے پر پتھر رکھ دیتے تھے ، جسے وہ لوگ ٹانگوں میں رسہ ڈال کر شہر کے شریر اور او باش نوجوان اور بچوں کے حوالے کر دیا کرتے تھے اور وہ ان کو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹا کرتے تھے، یہ وہی بلال تھے جہنیں مکہ کے لوگ حبشی غلام ہونے کی وجہ سے سخت ذلیل سمجھا کرتے تھے مگر اب اسلام میں داخل ہو جانے کی وجہ سے بلال کو وہ مقام اور رتبہ حاصل ہوا کہ وہی بلال کو ذلیل سمجھنے والے لوگ اس طرح امان پا سکتے تھے کہ وہ بلال کے جھنڈے کے نیچے آ جائیں ۔ پس جب طائف کی بستی والوں نے کہا ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کو تیار نہیں تو اللہ تعالیٰ نے