انوارالعلوم (جلد 19) — Page 94
انوار العلوم جلد ۱۹ ۹۴ قومی ترقی کے دوا ہم اصول پیچھے سیڑھیوں سے نیچے اُترا اور اُس نے مسجد کے ساتھ والے چوک میں مجھے پکڑ لیا۔ میں چونکہ اُس وقت سخت حواس باختہ تھا اس لئے میں نے پکڑنے والے سے کہا اس وقت مجھے چھوڑ دو میرے حواس درست نہیں ہیں میں بعد میں یہ سارا واقعہ مرزا صاحب کو لکھ دوں گا چنانچہ اُسے چھوڑ دیا گیا اور بعد میں اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ تمام واقعہ لکھا اور کہا کہ مجھ سے گستاخی ہو گئی ہے میں آپ کے مرتبہ کو پہچان نہ سکا اس لئے آپ مجھے معاف فرمادیں۔ میاں عبدالعزیز صاحب مغل لاہور والے سنایا کرتے تھے کہ میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہ کیوں نہ سمجھا کہ مرزا صاحب مسمریزم جانتے ہیں اور اس علم میں تم سے بڑھ کر ہیں ۔ اس نے کہا یہ بات نہیں ہو سکتی کیونکہ مسمریزم کے لئے توجہ کا ہونا ضروری ہے اور یہ عمل کامل سکون اور خاموشی چاہتا ہے مگر مرزا صاحب تو باتوں میں لگے ہوئے تھے اس لئے میں نے سمجھ لیا کہ ان کی قوت ارادی زمینی نہیں بلکہ آسمانی ہے ۔ پس جو قوت ارادی خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کو دی جاتی ہے اور جو کامل ایمان کے بعد پیدا ہوتی ہے اس میں اور انسانی قوتِ ارادی میں بعد المشرقین ہوتا ہے جس شخص کو خدا تعالی قوت ارادی عطا فرماتا ہے اس کے سامنے انسانی قوت ارادی تو بچوں کا ساکھیل ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کے سامنے جادوگروں کے سانپ مات ہو گئے تھے اسی طرح جب خدا تعالیٰ کے پیاروں کی قوت ارادی ظاہر ہوتی ہے تو اس قسم کی قوت ارادی رکھنے والے لوگ بیچ ہو جاتے ہیں ۔ پس دوسری چیز قومی ترقی کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام سچائیوں کو اپنے اندر جذب کر لیا جائے یہ نہیں کہ صرف وفات مسیح کو مان لیا جائے اور کہہ دیا کہ اور بس ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے بلکہ وفات مسیح کے مسئلہ کو سامنے رکھ کر اس کے چاروں پہلوؤں پر غور کیا جائے کہ وفات مسیح کا ماننا کیوں ضروری ہے ہمیں جو چیز حیات مسیح کے عقیدہ سے چھتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک تو حیات مسیح کے عقیدہ سے حضرت عیسیٰ کی فضیلت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ثابت ہوتی ہے حالانکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا کوئی نبی ہوا ہے نہ ہو گا اور حیات مسیح ماننے سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جنہوں نے ساری دنیا کی حقیقی اصلاح کی مسیح کی فوقیت ثابت ہوتی ہے اور یہ اسلامی عقائد کے خلاف ہے ہم تو ایک لمحہ کے لئے یہ