انوارالعلوم (جلد 18) — Page 60
انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۰ اسلام کا اقتصادی نظام غرباء کو جائے گا کیونکہ رسول تو ایک فانی وجود ہوتا ہے۔ اُس کے نام سے مراد اس کا قائم کردہ نظام ہی ہو سکتا ہے۔ ۲۷ پھر ذی القربی کا جو حق بیان کیا گیا ہے اُس سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگ غلطی سے سمجھتے ہیں کہ ذِی الْقُرْبی کے الفاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اُن کا بھی اس روپیہ میں حق ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صاف فرما دیا ہے کہ سادات کیلئے صدقہ یا زکوۃ کا روپیہ لینا حرام ہے ۔ اور حقیقت اس سے مراد رسو مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی رشتہ دار نہیں بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جو خدا تعالیٰ کی عبادت اور اُس کے دین کی خدمت میں دن رات مشغول ہوں اور اس طرح خدا اور اُس کے رسول کے عیال میں داخل ہو گئے ہوں ۔ گویا ذِی القربی کہہ کر بتایا کہ وہ لوگ جو دین کی خدمت پر لگے ہوئے ہوں اُن کو نکما وجو د نہیں سمجھنا چاہئے وہ خدا تعالیٰ کا قرب چاہنے والے اور دنیا کو خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھانے والے ہیں اُن پر بھی یہ روپیہ خرچ کیا جا سکتا ہے۔ پس وہ لوگ جو قرآن پڑھانے والے ہوں یا حدیث پڑھانے والے ہوں یا دین کی اشاعت کا کام کرنے والے ہوں اس آیت کے مطابق اُن پر بھی یہ روپیہ خرچ کیا جا سکتا ہے کیونکہ جب وہ دن رات دینی اور مذہبی کاموں میں مشغول رہیں گے تو یہ لازمی بات ہے کہ وہ اپنے لئے دنیا کما نہیں سکیں گے۔ ایسی صورت میں اگر حکومت کی طرف سے اُن پر روپیہ خرچ نہیں کیا جائے گا تو دو صورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہوگی ۔ یا تو اُن کے اخلاق بگڑ جائیں گے اور وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہونگے اور یا پھر اس خدمت کو ہی ترک کر دیں گے اور دوسرے لوگوں کی طرح دنیا کمانے میں لگ جائیں گے حالانکہ خدا تعالیٰ کا قرآن کریم میں یہ صاف طور پر حکم موجود ہے کہ ہمیشہ مسلمانوں میں ایک جماعت ایسے لوگوں کی موجود رہنی چاہئے جو اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کئے ہوئے ہو اور رات دن دین کی اشاعت کا کام سرانجام دے رہی ہو۔ پس ذِی القربی سے مراد خدمت دین کا کام کرنے والے لوگ ہیں اور اس ہیں اور اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ جہاں اس روپیہ میں غرباء کا حق ہے وہاں ان لوگوں کا بھی حق ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ اُن پر روپیہ صرف کرے۔