انوارالعلوم (جلد 18) — Page 56
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۶ اسلام کا اقتصادی نظام ہے خواہ اُس پر سال چھوڑ ایک ماہ بھی نہ گزرا ہو ۔ اس کے علاوہ کانوں کے مالک جو اپنے حصہ کے نفع میں سے پس انداز کریں اور اس پر ایک سال گزر جائے اُس پر زکوۃ الگ لگے گی اور سال به سال لگتی چلی جائے گی ۔ گویا اس طرح حکومت کانوں میں بھی حصہ دار ہو جاتی ہے اور کانوں کے مالک جو رو پیدا اپنے حصہ میں سے بچاتے ہیں اُن سے بھی ہر سال غرباء کی ترقی کے لئے ایک مقررہ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ جب بھی کسی کے جمع کردہ مال پر ایک سال گزر جائے گا حکومت کے افراد اس کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ لاؤ جی غربا ء کا حق ہمیں دے دو ۔ طوعی صدقہ تیسرے اسلام نے طوئی صدقہ رکھا ہے۔ چنانچہ اسلام کا حکم ہے کہ ہرشخص کو صدقہ وخیرات کے طور پر پر یتیموں ، غریبوں اور مسکینوں کی خبر گیری اور اُن کی پرورش کے لئے کچھ نہ کچھ مال ہمیشہ خرچ کرتے رہنا چاہئے ۔ یہ حکم بھی ایسا ہے کہ اس کی وجہ سے کسی شخص کے پاس حد سے زیادہ دولت جمع نہیں رہ سکتی ۔ ورثہ کی تقسیم اگر ان تمام طریقوں سے کام لینے کے باوجود پھر بھی کسی انسان کے پاس کچھ مال بچ جائے اور وہ اپنی جائداد بنالے تو اُس کے مرنے کے معاً بعد شریعت اس کی تمام جائداد کو اُس کے خاندان میں تقسیم کرا دے گی ۔ چنانچہ ورثہ کا حکم شریعت میں اسی غرض کے ماتحت رکھا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنی جائداد کسی ایک شخص کو نہ دے جائے بلکہ وہ اُس کے ورثاء میں تقسیم ہو جائے ۔ شریعت نے اس تقسیم میں اولاد کا بھی حق رکھا ہے، ماں باپ کا بھی حق رکھا ہے، بیوی کا بھی حق رکھا ہے، خاوند کا بھی حق رکھا ہے اور بعض حالتوں میں بھائیوں اور بہنوں کا بھی حق رکھا ہے ۔ قرآن کریم نے صاف طور پر حکم دیا ہے کہ کسی شخص کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اس تقسیم کو بدل سکے ۔ یا کسی ایک رشتہ دار کواپنی تمام جائداد سپرد کر جائے ۔ اُس کی جس قدر جائداد ہو گی شریعت جبراً اس کے تمام رشتہ داروں میں تقسیم کرا دے گی اور ہر ایک کو وہ حصہ دے گی جو قرآن کریم میں اُس کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ تعجب ہے کہ جہاں دنیا سود کی تائید میں ہے حالانکہ وہ دنیا کی بے جوڑ مالی تقسیم کا بڑا موجب ہے وہاں اکثر لوگ جبری ورثہ کے بھی مخالف ہیں اور اس امر کی اجازت دیتے ہیں کہ ایک ہی لڑکے کو مرنے والا اپنا مال دے جائے حالانکہ اس سسٹم سے دولت ایک خاندان میں غیر محدود وقت