انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 42

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۲ اسلام کا اقتصادی نظام ایک حد کے اندر۔ لیکن مردوں کے لئے زیورات کا استعمال قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا ہے اسی طرح وہ برتن جو سونے چاندی کے ہوں اُن کا استعمال رسول کریم ﷺ نے ممنوع قرار دیا ہے۔ اس ضمن میں وہ اشیاء بھی آجاتی ہیں جو عام طور پر محض زینت یا تفاخر کے لئے امراء اپنے مکانوں میں رکھتے ہیں ۔ میں نے دیکھا ہے بعض لوگ اپنے مکان کی زینت کے لئے ایسی ایسی چیزیں خرید لیتے ہیں جن کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوتا ۔ مثلاً بعض لوگ چینی کے پرانے برتن خرید کر اپنے مکانوں میں رکھ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک بڑی قیمتی چیز خریدی ہے۔ یورپین لوگوں میں خصوصیت کیساتھ یہ نقص ہے کہ وہ پانچ پانچ دس دس ہزار روپیہ تک کے اس قسم کے برتن خرید لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ وہ برتن ہیں جو آج سے اتنے ہزار سال پہلے کے ہیں ۔ یا پرانے قالین بڑی بڑی قیمت پر خرید کر اپنے مکانوں میں لڑکا لیتے ہیں ۔ حالانکہ ویسے ہی قالین پچاس ساٹھ روپیہ میں آسانی سے مل جاتے ہیں لیکن محض اس لئے کہ وہ لوگوں کو یہ بتا سکیں کہ یہ قالین فلاں بادشاہ کا ہے یا فلاں زمانہ کا ہے وہ بہت کچھ روپیہ اُس کے خرید نے پر برباد کر دیتے ہیں ۔ اسلام کے نزدیک یہ سب لغو چیزیں ہیں اور ان میں کوئی حقیقی فائدہ نہیں صرف دولت کے اظہار کے لئے لئے لوگ ان چیزوں کو خریدتے یدتے اور اور اپنے اپنے روپیہ روپے کو برباد کرتے ہیں ۔ رسول کریم ہے صلى الله عروسه نے ان باتوں کو عملاً ناجائز قرار دے دیا ہے اور فرمایا ہے کہ مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ ان لغو کاموں میں اپنے وقت کو ضائع کرے اور اس قسم کی بے کار چیزوں پر اپنے روپیہ کو برباد کرے آجکل کے لحاظ سے سینما اور تھیٹر وغیرہ بھی اس حکم کے نیچے آجائیں گے ۔ کیونکہ سینما اور تھیڑوں وغیرہ پر بھی ملک کی دولت کا ایک بہت بڑا حصہ ضائع چلا جاتا ہے۔ میں نے ایک دفعہ حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ کروڑوں کروڑ روپیہ سینما پر ہر سال خرچ ہوتا ہے ۔ لاہور ہی میں کوئی پچھپیں کے قریب سینما سُنا جاتا ہے اور اوسط آمد ہر سینما کی ہفتہ وار دو تین ہزار بتائی جاتی ہے اگر اڑھائی ہزا ر ا وسط آمد شمار کی جائے تو ماہوار آمد دس ہزار ہوئی ۔ اور سالانہ ایک لاکھ بیس ہزار ۔ میں سینما بھی اگر شمار کئے جائیں تو صرف لاہور کا سالانہ سینما کا خرچ چوبیس لاکھ کا ہوا۔ اگر ہندوستان کے تمام شہروں اور قصبات کو سینما کے لحاظ سے لاہور کے برابر سمجھا جائے گو یقیناً اس سے زیادہ نسبت ہو گی تو بھی ایک ہزا ر سینما سارے ہندوستان میں بن جاتا ہے اور بارہ کروڑ