انوارالعلوم (جلد 18) — Page 612
انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۱۲ ایک آیت کی پُر معارف تفسیر شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ صحابۂ حق کو قبول کرنے سے جی چراتے تھے اور حق کی طرف جانا ان کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا نعُوذُ بِاللہ وہ موت کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں اور موت ان کو سامنے نظر تھے یہ معنی بھی رض آ رہی ہے ، اسی طرح یہ کہنا کہ صحابہ جنگ کو نا پسند کرتے تے اور اس سے جی چراتے تھے یہ ایسے ہیں جو صحابہ کی تنقیص کرنے والے ہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تک ناپسندیدگی کا سوال ہے ایک مؤمن کبھی جنگ اور کشت و خون کو پسند نہیں کرتا بلکہ چاہتا ہے کہ جنگ و جدال اور شرارت اور فساد کو چھوڑ کر صلح کر لے لیکن اگر کوئی ایسا موقع آ جائے کہ جنگ ناگزیر ہو جائے تو مؤمن جیسا بہادر اور نڈر بھی کوئی نہیں ہوتا اور وہ موت کی کبھی پرواہ نہیں کرتا بلکہ وہ موت کوا۔ اپنے لئے خوشی کا موجب سمجھتا ہے اور یہی حالت صحابہ کی تھی ۔ ہمیں تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ جنگوں میں اس طرح جاتے تھے کہ ان کو یوں معلوم ہوتا تھا کہ جنگ میں شہید ہونا ان کے لئے عین راحت اور خوشی کا موجب ہے اور اگر ان کو لڑائی میں کوئی دکھ پہنچتا تھا تو وہ اس کو دکھ نہیں سمجھتے تھے بلکہ سکھ خیال کرتے تھے۔ چنانچہ صحابہ کے کثرت کے ساتھ اس قسم کے واقعات تاریخوں میں ملتے ہیں کہ انہوں نے خدا کی راہ میں مارے جانے کو ہی اپنے لئے عین راحت محسوس کیا ۔ مثلاً وہ حفاظ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وسط عرب کے ایک قبیلہ کی طرف تبلیغ کے لئے بھیجے تھے ان میں سے حرام بن ملحان اسلام کا پیغام لیکر قبیلہ عامر کے رئیس عامر بن طفیل کے پاس گئے اور باقی صحابہ پیچھے رہے۔ شروع میں تو عامر بن طفیل اور اس کے ساتھیوں نے منافقانہ طور پر ان کی آؤ بھگت کی لیکن جب وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور تبلیغ کرنے لگے تو ان میں سے بعض شریروں نے ایک خبیث کو اشارہ کیا اور اس نے اشارہ پاتے ہی حرام بن ملحان پر پیچھے سے نیزہ کا وار کیا اور وہ گر گئے ۔ گرتے وقت ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا کہ اللهُ اَكْبَرُ فُرْتُ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ کے یعنی مجھے کعبہ کے رب کی قسم میں نجات پا گیا۔ پھر ان شریروں نے باقی صحابہ کا محاصرہ کیا اور ان پر حملہ آ آور ہو گئے اس موقع پر حضرت ابو بکر کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ جو ہجرت کے سفر میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ تھے ان کے متعلق ذکر آتا ہے بلکہ خودان کا قاتل جو بعد میں مسلمان ہو گیا تھا وہ اپنے مسلمان ہونے کی وجہ ہی یہ بیان کرتا تھا کہ جب میں نے عامر بن فہیرہ کو شہید کیا تو صلى الله عروسة