انوارالعلوم (جلد 18) — Page 586
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۸۶ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں۔ اور صرف اسلامی نام کی وجہ سے اِسے رڈ کر دیا جاتا۔ ہم نے ان حالات کی وجہ سے بار بارشور مچایا، لیڈروں سے اس ظلم کے انسداد کی کوشش کے لئے کہا مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور رینگتی بھی کیسے وہ اپنی اکثریت کے نشے میں چور تھے ، وہ اپنی حکومت کے رعب میں مدہوش تھے اور وہ اپنی طاقت کی وجہ سے بدمست تھے اُنہوں نے مسلمانوں کو ہر جہت سے نقصان پہنچانے کی کوششیں کیں ، اُنہوں نے مسلمانوں کی ہر ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ہر ممکن سازشیں کیں اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں چاہے وہ ہمیں ماریں یا دکھ پہنچائیں ۔ ہمیں تو ہر قوم نے ستایا اور دکھ دیا ہے لیکن ہم نے انصاف نہیں چھوڑا ۔ جب ہندوؤں پر مسلمانوں نے ظلم کیا ہم نے ہندوؤں کا ساتھ دیا، جب مسلمانوں پر ہندوؤں نے ظلم کیا ہم نے مسلمانوں کا ساتھ دیا ، جب لوگوں نے بغاوت کی ہم نے حکومت کا ساتھ دیا اور جب حکومت نے نا واجب سختی کی ہم نے رعایا کی تائید میں آواز اُٹھائی اور ہم اسی طرح کرتے جائیں گے خواہ اس انصاف کی تائید میں ہمیں کتنی ہی تکلیف کیوں نہ اُٹھانی پڑے۔ ہمیں سب قوموں کے سلوک یاد ہیں ۔ کیا ہمیں وہ دن بھول گئے ہیں جب چوہدری کھڑک سنگھ صاحب نے تقریر کی تھی ہم قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے اور قادیان کے ملبہ کو دریا برد کر دیں گے ۔ پھر کیا لیکھرام ہندو تھا یا نہیں؟ وہ لوگ جنہوں نے احراریوں کا ساتھ دیا تھا وہ ہندو تھے یا نہیں؟ مگر ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ جو شخص یا جماعت خدا تعالیٰ کا پیغام لے کر کھڑی ہو اس کی ساری دنیا دشمن ہوتی ہے اس لئے لوگوں کی ہمارے حق کے ساتھ دشمنی ایک طبعی امر ہے ۔ ہم نے ملکا نا میں جہاں لاکھوں مسلمانوں کو آریوں نے مرتد کر دیا تھا اور شدھ بنا لیا تھا جا کر تبلیغ کی اور انہیں پھر حلقہ بگوش اسلام کیا اور جب وہاں اسلام کو غلبہ نصیب ہو گیا اور آریہ مغلوب ہو گئے تو وہی لوگ جو ملکانوں کے ارتداد کے وقت شور مچاتے تھے کہ احمدی کہاں گئے اور کہتے تھے وہ اب کیوں تبلیغ نہیں کرتے وہی شور مچانے والے ملکانوں کے دوبارہ اسلام لانے پر ان کے گھر گھر گئے اور کہتے پھرے تم آریہ ہو جاؤ مگر مرزائی نہ بنو۔ ادھر ہندو ریاستوں نے ظلم پر ظلم کئے ، الور والوں نے بھی ظلم کیا اور بھرت پور میں بھی یہی حال ہوا۔ جب ہمارے آدمی وہاں جاتے تو