انوارالعلوم (جلد 18) — Page 37
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۷ اسلام کا اقتصادی نظام خواہش اُن کے لئے روپیہ کمانے کا محرک بن جاتی ہے ۔ کعب میں جوئے بازی ، سٹہ بازی اور گھوڑ دوڑ وغیرہ سب شامل ہیں ۔ انسان چاہتا ہے کہ میرے پاس روپیہ ہو اور میں جو اکھیلوں ، روپیہ ہو اور میں سٹہ بازی کروں ، روپیہ ہو اور میں گھوڑ دوڑ میں حصہ لیا کروں ۔ یہ کھیل کود کی خواہش اُس کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح روپیہ جمع کر کے اپنی اس خواہش کو پورا کرے۔ (۲) دوسری وجہ تھو کی بتاتا ہے۔ لوگ اگر روپیہ کماتے ہیں تو اس کی ایک وجہ تھو بھی ہوتی ہے۔ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ اُن کے پاس اتنی دولت ہو کہ انہیں کوئی کام نہ کرنا پڑے سارا دن سست اور بیکار بیٹھے رہیں یا تاش ، گنجفہ کا اور شراب وغیرہ میں اپنا وقت گزار دیں۔ یہ چیز بھی ایسی ہے جو لوگوں کے لئے مال جمع کرنے کا محرک بن جاتی ہے۔ (۳) تیسری وجہ جلب زر کی خواہش کی زینہ بتائی گئی ہے۔ یعنی انسان چاہتا ہے میرے کپڑے عمدہ ہوں ، لباس عمدہ ہو ، سواریاں عمدہ ہوں اور عمدہ عمدہ کھانے مجھے حاصل ہوں ۔ (۴) چوتھا محرک روپیہ کمانے کا تفاخر بينكم بتایا گیا ہے۔ یعنی بعض لوگ اس بات بَيْنَكُم کے لئے لئے ؟ بھی روپیہ جمع کرتے ہیں کہ لوگوں میں اُن کی عزت عزت بڑھے، وہ بڑ۔ بڑے مالدار مشہور ہوں اور لوگوں سے کہہ سکیں کہ تم جانتے نہیں ہم کتنے امیر ہیں ۔ میں نے دیکھا ہے یہ مرض اتنا بڑھا ہوا ہے کہ ہمارے ملک میں ساتو تو بعض لوگ غلامی کے اقرار میں بھی اپنی اپنی بڑائی سمجھتے ہیں وہ ۔ وہ باتیں باتیں کرتے ہوئے کہتے ہیں آپ نہیں جانتے میں کون ہوں ۔ میں انگریزی حکومت کا اتنا ٹیکس ادا کرنے والا ہوں ۔ گویا بجائے اُن کے دل میں یہ احساس پیدا ہونے کے کہ میں دوسری قوم کا ماتحت ہوں اور اُس کو ٹیکس ادا کرتا ہوں وہ اُسے فخریہ طور پر پیش کرتے ہیں کہ میں اتنائیکس گورنمنٹ کو ادا کرتا ہوں بلکہ میں نے تو اس سے بھی زیادہ دیکھا ہے کہ بعض ہندوستانی اس پر بھی فخر کرتے ہیں کہ میں بڑے صاحب کا اردلی ہوں ۔ پس فرماتا ہے روپیہ کمانے کا ایک محرک یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ چاہتے ہیں ہم دوسروں پر فخر کر سکیں ، اُن پر رعب ڈال سکیں اور اُنہیں کہہ سکیں کہ ہم اتنے مالدار ہیں ۔ تمہارا فرض ہے کہ ہماری باتیں مانو ۔ 66 (۵) پانچواں محرک مال زیادہ کمانے کا تكاثر في الأموال ہوتا ہے۔ یعنی محض