انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 507

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۰۷ خدا تعالیٰ دنیا کی ہدایت کیلئے ہمیشہ نبی مبعوث فرماتا ہے لئے ہر طرح کی نعمتیں پیدا کیں اور جب اتنی لمبی تیاری کے بعد انسان کو پیدا کیا گیا تو اس کی محبت ماں باپ کی محبت سے کسی صورت میں کم نہیں ہو سکتی بلکہ بہت زیادہ ہوگی ۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ماں باپ کی محبت کو خدا کی محبت سے کچھ نسبت ہی نہیں ہے۔ ایک بچہ جب بیمار ہوتا ہے تو اس کے ماں باپ کو اس کے علاج کی فکر ہوتی ہے اور اس کے لئے وہ حکیموں اور ڈاکٹروں کے پاس سرگرداں پھرتے ہیں اور اس کی صحت کے لئے دعائیں کرتے ہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بنی نوع انسان کسی روحانی بیماری میں مبتلا ہوں تو خدا کو ان کے علاج کی فکر نہ ہو، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا کے دل میں محبت نہ ہو اور وہ اپنے بندوں کی روحانی بیماریوں کے علاج کی فکر نہ کرے اور ان کے لئے کوئی حکیم یا ڈاکٹر نہ بھیجے ۔ یعنی اپنے بندوں کی راہ نمائی کے لئے اپنا کوئی ما مور نہ بھیجے ۔ ایک بچہ اگر کہیں گم ہو جائے تو اس کے ماں باپ کو اتنی فکر ہوتی ہے کہ وہ کھانا پینا تک بھول جاتے ہیں اور کسی کی منت سماجت کر کے اسے ایک طرف ڈھونڈ نے کیلئے روانہ کر دیتے ہیں اور کسی کو دوسری سمت روانہ کر دیتے ہیں اور ان کو اُس وقت تک چین نہیں آتا جب تک ان کا بچہ اپنے گھر واپس نہیں پہنچ جاتا۔ کیسی ماں کا بچہ اگر گھر سے ناراض ہو کر نکل جائے تو وہ بے چین ہو کر ادھر اُدھر بھاگتی ہے اور جو شخص بھی اس کو رستہ میں مل جائے اس سے پوچھتی ہے کہ کہیں میرا بچہ تو نہیں دیکھا پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا کے بندے راہ گم کر دیں اور صحیح راستے سے بھٹک جائیں اور خدا ان کی راہنمائی نہ کرے۔ وہ ضرور کرتا ہے اور ہمیشہ سے کرتا چلا آیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وران مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرًا یعنی کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں ہم نے اپنا نذیر نہ بھیجا ہو ۔ دنیا میں تمام مذاہب والے ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے جھگڑتے ہیں ۔ ایک کہتا ہے ہمارا نبی سچا تھا اور باقی تمام جھوٹے تھے اور دوسرا کہتا ہے ہمارا نبی سچا تھا اور دوسرے تمام جھوٹے تھے مگر اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے صرف اسلام کی راہنمائی فرمائی یہ کہہ کر کہ ہم نے سب قوموں کی طرف نبی بھیجے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کسی ایسے شخص کو جسے کسی قوم نے برگزیدہ تسلیم کیا ہو جھوٹا نہیں کہہ سکتے بلکہ اس کی عزت کرتے ہیں اور جن ہستیوں کو دوسرے مذاہب والوں نے نبی تسلیم کیا ہے ہم بھی ان کو نبی تسلیم کرتے ہیں کیونکہ ہم