انوارالعلوم (جلد 18) — Page 480
انوار العلوم جلد ۱۸ ٤٨٠ عمل کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی بادشاہتیں بھی ان کے سپر د کر دیتا ہے ۔ پ سید عبدالقادر صاحب جیلانی کے متعلق لکھا ہے کہ لوگوں نے ان پر اعتراض کیا کہ آ اچھے کھانے کھاتے اور اچھے کپڑے پہنتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا میں کبھی کھانا نہیں کھاتا جب تک مجھے خدا نہیں کہتا کہ اے عبدالقادر ! میری ذات ہی کی قسم ہے تو یہ کھانا کھا اور میں اچھے کپڑے نہیں پہنتا جب تک مجھے خدا نہیں کہتا کہ اے عبد القادر ! تجھے میری ذات ہی کی قسم ہے تو یہ کپڑا پہن ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایک انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو وہ چیز جو اس نے خدا کے لئے چھوڑی ہوتی ہے اُسے خدا کی طرف سے عطا کی جاتی ہے اور اس وقت اس کا چھوڑ نا گناہ ہوتا ہے جیسے پہلے اس کا مانگنا گناہ ہوتا ہے۔ اگر تم اس چیز کو چھوڑنا چاہتے ہو تو یہ ایک نقص ہوگا کیونکہ خدا یہ چاہتا ہے کہ وہ تمہیں یہ چیز خلعت کے طور پر عطا کرے اور یقیناً وہ دن آئے گا اور ضرور آئے گا جب ہر چیز تمہارے ہاتھ میں ہو گی خواہ یہ دن تمہارے لئے آئے یا تمہاری نسلوں کے لئے مگر تم تو درخت ہونے میں آتے ہی نہیں کہ تم اس کا پھل کھا سکو ۔ کہتے ہیں ایک بادشاہ ایک بڑھے کے پاس سے گزرا اور اس نے دیکھا کہ وہ ایک ایسا درخت لگا رہا ہے جو بہت دیر سے پھل لاتا ہے بادشاہ حیران ہوا اور اس نے بڑھے سے مخاطب ہو کر کہا۔ میاں بڑھے ! تم کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہو تمہاری ستر اسی سال عمر ہے تم آج نہ مرے کل مرے زیادہ سے زیادہ جئے بھی تو پانچ سات سال زندہ رہو گے مگر یہ درخت تو بہت دیر کے بعد پھل لائے گا اور تم اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکو گے پھر ایسا درخت تم کیوں بور ہے ہو؟ بڑھے نے کہا بادشاہ سلامت ! آپ نے یہ کیا کہہ دیا آپ تو بڑے عقلمند اور دوراندیش انسان ہیں اگر پہلے لوگ بھی اسی خیال میں مبتلا رہتے کہ جب ہم نے پھل نہیں کھانا تو ہم درخت کیوں لگائیں اور وہ اس خیال کے ما تحت درخت نہ لگاتے تو آج ہم کہاں سے پھل کھاتے انہوں نے درخت لگائے تو ہم نے پھل کھائے اب ہم درخت لگائیں گے اور ہماری آئندہ نسلیں اس کا پھل کھائیں گی ۔ بادشاہ کو اُس کی یہ بات بہت پسند آئی اور اُس نے کہا زہ یعنی کیا ہی خوب بات کہی ہے۔ بادشاہ نے یہ حکم دیا ہوا تھا کہ جب میں کسی کی بات پر خوش ہو کر زہ کہوں تو اسے فوراً تین ہزار کی تھیلی انعام دی جایا کرے ۔ جب بادشاہ نے زہ کہا تو خزانچی نے فوراً تین ہزار کی ایک تھیلی بڑھے کے سامنے