انوارالعلوم (جلد 18) — Page 441
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۴۱ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے ( فرموده ۱۳ راکتو بر ۱۹۴۶ء بمقام یا رک روڈ ۔ دہلی ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ سب سے پہلے میں اس بات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ اِنْشَاءَ اللہ کل شام کی گاڑی سے ہم واپس جا رہے ہیں اس لئے دوستوں کو آج میں نے بلایا ہے تا بعض نصائح کروں ۔ رات کے لحاظ سے یہاں آج آخری رات ہوگی اور اب یہ مجالس ختم ہونے والی ہیں ۔ دوستوں نے میری آمد سے ہر طرح فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی ہے ، دوست خود بھی آتے رہے اور اپنے ملنے والوں کو بھی ساتھ لاتے رہے میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں پر اپنا فضل نازل فرمائے اور کامیابیوں اور ترقیات کے دروازے آپ لوگوں پر کھول دے۔ اسی طرح جماعت دہلی نے جس مہمان نوازی کا نمونہ دکھایا ہے گو اسے مکمل نہ کہا جا سکے مگر یقیناً وہ دوسری جماعتوں کے لئے نمونہ ہے۔ ہماری مہمان نوازی چوہدری شاہ نواز صاحب نے کی جس میں ان کی اہلیہ صاحبہ کا بہت سا حصہ ہے فَجَزَاهَا اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ باقی ساتھیوں اور مہمانوں کی مہمان نوازی تین ہفتے متواتر جماعت احمد یہ دہلی نے کی اور بعض لوگ تو رات دن کام پر رہے اور بعض دوست کھانا کھلانے کے لئے اکثر آتے رہے مثلاً با بو عبد الحمید صاحب سیکرٹری تبلیغ دہلی اسی طرح اور کئی دوست کام میں لگے رہے، امیر صاحب جماعت دہلی ڈاکٹر عبداللطیف صاحب ، چوہدری بشیر احمد صاحب اسی طرح کئی اور دوست ان دنوں اسی طرح کام پر لگے رہے کہ گویا ان کا کام مہمان نوازی اور ہماری امداد کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں ۔ ڈاکٹر لطیف صاحب اور سید انتظار حسین صاحب کی موٹریں رات دن ہماری کوٹھی پر رہیں اور چوہدری شاہ نواز صاحب