انوارالعلوم (جلد 18) — Page 434
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۳۴ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے (۴) ذرائع آمد و رفت یعنی ہر انسان کو سفر کی سہولتیں میسر ہونی چاہئیں تا کہ وہ آزادی سے ایک ملک سے دوسرے ملک میں جا سکے۔ یہ چیزیں لیگ آف نیشنز سے بھی زیادہ ضروری ہیں کیونکہ لیگ آف نیشنز کی تو کبھی کبھی ضرورت پڑتی ہے لیکن سفر اور تجارتی تعلقات وغیرہ روزانہ کی چیزیں ہیں۔ اس وقت بعض ایسے ممالک بھی ہیں جنہوں نے یہ قانون بنایا ہوا ہے کہ کوئی غیر ملکی شخص ہمارے ملک میں داخل نہیں ہو سکتا۔ مثلاً روس اور بعض دوسرے ممالک نے یہ پابندی لگائی ہوئی ہے کہ کوئی غیر ملکی آدمی ہمارے ملک میں نہیں آ سکتا۔ ہم نے اپنے مبلغ کو وہاں بھیجنے کے لئے پاسپورٹ حاصل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن پاسپورٹ نہ دیا گیا۔ پس جب تک خیالات کا تبادلہ کرنے کی اجازت نہ ہوگی اُس وقت تک اتحاد نہیں ہو سکتا کیونکہ حکومتوں کے اتحاد کیلئے افراد کا اتحاد ضروری ہے اور افراد کا اتحاد ہو نہیں سکتا جب تک وہ تبادلۂ خیالات نہ کریں اس لئے تبادلۂ خیالات حکومتوں کے اتحاد کے لئے پہلا قدم ہے۔ پس ان چار چیزوں کو اگر جمع کر دیا جائے تو امن قائم ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد اندرونِ ملک کے جھگڑوں کو دور کرنے کے لئے اسلام نے جو قواعد مقرر کئے ہیں اب میں وہ بیان کرتا ہوں چونکہ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے اس لئے میں تفصیلات میں نہیں جا سکتا صرف موٹے موٹے عنوانات پر ہی اکتفا کروں گا۔ پہلی چیز یہ ہے کہ نسلوں کا امتیاز مٹا دیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْتُكُمْ مِّن ذَكَرٍ وَ أُنثَى وَ جَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَ فُوْلانَ أَكْرَمَكُمْ عند الله اتقكُمْ لالے یعنی اے لوگو! ہم نے تم کو مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو کئی گروہوں اور قبائل میں تقسیم کر دیا ہے تا کہ یہ چیز تمہارے لئے آپس میں تعارف کا ذریعہ بنے مگر یہ بات یا درکھو کہ تم میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے یہ قو میں اور قبیلے اور خاندان تو تعارف اور پہچان کے لئے ہیں ۔ جس طرح پہچان کے لئے نام رکھے جاتے ہیں مگر کیا ناموں کی وجہ سے تم یہ کبھی سمجھتے ہو کہ چونکہ اس کا نام عبداللہ ہے اس لئے یہ چھوٹا ہے اور اس کا نام رحمن ہے اس لئے وہ بڑا ہے بلکہ یہ نام تو پہچاننے کے لئے ہیں لیکن بعض لوگ اپنی بیوقوفی کی وجہ سے اپنے آپ کو دوسرے لوگوں سے معزز سمجھنا شروع کر دیتے ہیں جیسے