انوارالعلوم (جلد 18) — Page 431
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۳۱ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے کرالیں۔ وہ پنیر لے کر بندر کے پاس گئیں بندر تر از ولے کر بیٹھ گیا اور اس نے پیر تقسیم کرنا شروع کیا۔ جس طرف پلڑا ذرا بھاری ہوتا اُس طرف سے وہ اتنا زیادہ پنیر اٹھا لیتا کہ دوسری طرف بھاری ہو جاتی اور وہ پنیر خود کھا لیتا، پھر دوسری طرف سے ایک کافی حصہ اُٹھا لیتا اور کھا جاتا اس بتا اور کھا جاتا اس طرح اُس نے اکثر حصہ پنیر کا کھالیا اور جو تھوڑا سا باقی رہ گیا اس کے متعلق کہنے لگا کہ یہ میرے تقسیم کرنے کی اجرت ہے۔ یہی حال یورپ والوں کا ہے جب وہ صلح کرانے لگتے ہیں تو اپنے مطالبات لے کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہم نے تمہاری صلح کرائی ہے اس کے عوض میں ہمیں اپنے ملک کا فلاں فلاں حصہ دے دو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے یہ چیز آئندہ کے لئے زیادہ بغض اور حسد پیدا کرتی ہیں۔ پس سارے جھگڑے پارٹی بازی کی وجہ سے ہیں مختلف حکومتوں کو یہ یقین ہے کہ ان کی قو میں صرف اس خیال سے کہ وہ ان کی حکومتیں ہیں ان کا ساتھ دینے کو تیار ہیں اس لئے وہ بے خوف ہو کر دوسری حکومتوں پر حملہ کر دیتی ہیں۔ اس وقت قومی تعصب اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اپنی قوم کا سوال پیدا ہوتا ہے تو سب لوگ بلا غور کرنے کے ایک آواز پر جمع ہو جاتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اگر ہماری حکومت کی غلطی ہے تو ہم اسے سمجھا دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زیادتی کرنے والی حکومت کو زیادتی سے روکو اور ان حکومتوں کی آپس میں صلح کرا دو اور کوئی نئی شرائط پیش نہ کرو اور نہ ہی تم اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کرو لیکن موجودہ جنگ کا ہی حال دیکھ لو کہ حکومتیں طاقت کے زور پر اپنے حصے مانگ رہی ہیں اور چھوٹی چھوٹی حکومتوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس طریق کو اختیار کرنے سے کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا جیسی آزادی کی ضرورت روس کو ہے یا جیسی آزادی کی ضرورت برطانیہ کو ہے یا جیسی آزادی کی ضرورت امریکہ کو ہے اسی طرح آزادی کی ضرورت چھوٹی حکومتوں کو بھی ہے۔ آزادی کے لحاظ سے یونٹ سب کے لئے ایک جیسا ہے۔ یہ نہیں کہ ان بڑی حکومتوں کے دماغ تو انسانوں کے دماغ ہیں لیکن چھوٹی حکومتوں کے دماغ جانوروں کے دماغ ہیں۔ جیسے وہ انسان ہیں ویسے ہی یہ انسان ہیں اور آزادی کا جیسا احساس ان بڑی حکومتوں کو ہے ویسا ہی ان چھوٹی حکومتوں کو ہے۔ کیا ہالینڈ کا ایک آدمی ویسے ہی احساسات نہیں رکھتا جیسے احساسات برطانیہ کا آدمی رکھتا ہے۔ جب احساسات ایک جیسے ہیں تو پھر بڑی حکومت کا چھوٹی حکومت پر دباؤ ڈالنا انصاف پر مبنی نہیں ہو سکتا۔ اگر ایک شخص چارفٹ کا ہو اور دوسرا سات فٹ کا ہو اور سات فٹ کا آدمی چارفٹ والے کو کہے