انوارالعلوم (جلد 18) — Page 405
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۰۵ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین سے صلى الله نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ زید کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دیں، اس کی والدہ روتے روتے اندھی ہوگئی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں زید کو آزاد کر چکا ہوں اور اس کو میری طرف سے اجازت ہے کہ وہ خوشی کے ساتھ تمہارے ساتھ چلا جائے ۔ آپ نے زید کو بلایا اور فرمایا کہ دیکھو ! تمہارا باپ اور تمہارا چا تمہیں لینے آئے ہیں تم ان کے ساتھ چلے جاؤ ۔ حضرت زید اصل میں آزاد خاندان سے تعلق رکھتے تھے اُن کو بچپن میں عیسائی ڈا کو پکڑ کے لے گئے تھے اور کسی کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا۔ آخر پکتے پکتے وہ حضرت خدیجہ کے ہاتھ پک گئے تھے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضرت خدیجہ شادی ہوئی تو حضرت خدیجہ نے یہ غلام آپ کی نذر کر دیا اور رسول کریم ﷺ نے اُسے آزاد کر دیا۔ حضرت زید کے والد نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ جتنا روپیہ لینا چاہتے ہیں لے لیں اور زید کو آزاد کر دیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو اُس کو پہلے ہی آزاد کر چکا ہوں اور اُسے میری طرف سے اجازت ہے کہ وہ تمہارے ساتھ چلا جائے ۔ آپ نے زید کو فرمایا کہ تمہارے ماں باپ کو تمہاری جدائی کی وجہ سے صدمہ ہے اب تم اپنے باپ کے ساتھ چلے جاؤ لیکن حضرت زید نے کہا آپ بے شک مجھے آزاد کر چکے ہیں لیکن میں اپنے آپ کو آزاد نہیں سمجھتا میں آپ کو کسی حالت میں بھی چھوڑ نے کے لئے تیار نہیں اور آپ مجھے ماں باپ سے بھی زیادہ عزیز ہیں ۔ پھر اپنے باپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنی ماں سے بہت محبت ہے میری ماں کو میری طرف سے سلام کہنا اور یہ عرض کرنا کہ مجھے تیری محبت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ زیادہ محبت ہے۔ جب حضرت زید نے اپنے باپ کو یہ جواب دیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دل محبت سے بھر گیا اور آپ نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ لوگو! سُن لو آج سے زیڈ میرا بیٹا ہے ۲۔ اُس وقت تک ابھی متبنی کی رسم جاری تھی اور اُس کے امتناع کا حکم نازل نہیں ہوا تھا ۔ وہ لشکر جس کا میں نے او پر ذکر کیا ہے اُس کا افسر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی زید کو مقرر کیا تھا مگر ساتھ ہی یہ ارشاد فرمایا کہ میں اس وقت زید کو لشکر کا سردار بناتا ہوں اگر زید لڑائی میں مارے جائیں تو ان کی جگہ جعفر لشکر کی کمان کریں ، اگر وہ بھی مارے جائیں تو عبد اللہ بن روائح کمان کریں ، اگر