انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 383

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۸۳ اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے آتے ہیں ورنہ ان میں سے کوئی بھی تمہار ا وفادار نہیں مگر لڑکے نے اپنے باپ کو جواب دیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کوئی سچا دوست شاید میسر نہیں آیا اس لئے آپ سب لوگوں کے متعلق یہی خیال رکھتے ہیں مگر میرے دوست ایسے نہیں وہ بہت وفادار ہیں اور میرے لئے جان تک قربان کرنے کو تیار ہیں ۔ باپ نے پھر سمجھایا کہ سچے دوست کا ملنا بہت مشکل ہے ساری عمر میں مجھے ایک ہی سچا دوست ملا ہے لیکن وہ لڑکا اپنی ضد پر قائم رہا کچھ عرصے کے بعد اس نے گھر سے خرچ کے لئے کچھ رقم مانگی تو باپ نے جواب دیا کہ میں تمہارا خرچ برداشت نہیں کر سکتا تم اپنے دوستوں سے مانگو میرے پاس اس وقت کچھ نہیں ۔ دراصل اُس کا باپ اس کے لئے موقع پیدا کرنا چاہتا تھا کہ وہ اپنے دوستوں کا امتحان لے جب باپ نے گھر سے جواب دے دیا اور تمام دوستوں کو معلوم ہو گیا کہ اسے گھر سے جواب مل گیا ہے تو انہوں نے آنا جانا بند کر دیا اور میل ملاقات بھی چھوڑ دی آخر تنگ آ کر خود ہی ان کو ملنے کے لئے ان کے گھروں پر گیا ۔ جس دوست کے دروازہ پر دستک دیتا وہ اندر سے ہی کہلا بھیجتا کہ وہ گھر میں نہیں ہے کہیں باہر گئے ہوئے ہیں یا وہ بیمار ہیں اس وقت مل نہیں سکتے ۔ سارا دن اُس نے چکر لگایا مگر کوئی دوست ملنے کے لئے باہر نہ نکلا آخر شام کو گھر واپس لوٹ آیا۔ باپ نے رواپس لوٹ آیا۔ باپ نے پوچھا بتاؤ دوستوں نے کوئی مدد کی وہ کہنے لگا سارے ہی حرام خور ہیں کسی نے کوئی بہانہ بنالیا ہے اور کسی نے کوئی ۔ باپ نے کہا میں نے تمہیں ** اپنے نہیں کہا تھا کہ یہ لوگ وفادار نہیں ہیں اچھا ہوا تمہیں بھی تجربہ ہو گیا ہے۔ اب آؤ میں تمہیں ا دوست سے ملاؤں وہ پاس ہی کسی چوکی میں سپاہی کے طور پر ملازم تھا یہ باپ بیٹا اُس کے مکان پر پہنچے اور دروازہ پر دستک دی ۔ اندر سے آواز آئی کہ میں آتا ہوں وں لیکن کافی دیر ہو گئی دیر ہوئی اور وہ دروازہ کھولنے کے لئے نہ آیا ۔ لڑکے کے دل میں مختلف خیالات پیدا ہونے شروع ہوئے اُس نے باپ سے کہا ابا جی ! معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا دوست بھی میرے دوستوں جیسا ہی ہے ۔ باپ نے کہا کچھ دیر انتظار کرو آدھا گھنٹہ گزر چکنے کے بعد اُس نے دروازہ کھولا گلے میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی ، ایک ہاتھ میں ایک تھیلی اُٹھائی ہوئی تھی اور دوسرے ہاتھ سے بیوی کا بازو پکڑے ہوئے تھا ، دروازہ کھولتے ہی اُس نے کہا معاف فرمائیے آپ کو بہت تکلیف ہوئی میں جلدی نہ آسکا۔ میرے جلدی نہ آنے کی وجہ یہ ہوئی کہ آپ نے جب دروازہ پر دستک دی تو میں سمجھ گیا