انوارالعلوم (جلد 18) — Page 374
انوار العلوم جلد ۱۸ شروع کر دیتے ہیں ۔ ۳۷۴ اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے مجھ سے خدام الاحمد یہ دہلی کے عہدہ داروں نے یہ خواہش کی ہے کہ میں ان کو کچھ نصیحتیں کروں ۔ جہاں تک باتوں کا تعلق ہے وہ بہت ہو چکی ہیں اور باتوں کا زمانہ بہت لمبا ہو گیا ہے۔ باتیں یا سونے کے لئے کی جاتی ہیں یا کام کرنے کے لئے کی جاتی ہیں ۔ راتوں کو مائیں بچوں کو سلانے کے لئے باتیں سناتی ہیں اور دن کو لوگ آپس میں باتیں کرتے ہیں کہ اس طرح ان کو کوئی معقول بات مل جائے جو ان کے کام میں آسانی پیدا کرے۔ ہماری باتیں سونے کے لئے نہیں ہو سکتیں کیونکہ ایسے مصائب اور دُکھوں کے زمانہ میں سونا موت سے کسی طرح کم نہیں ہو سکتا باقی رہیں دوسری باتیں جو کام میں آسانی پیدا کرتی ہیں وہ بھی کافی ہو چکی ہیں اور مزید باتوں کی کوئی خاص ضرورت نظر نہیں آتی ۔ ہمارے سلسلہ کو قائم ہوئے ۵۶ سال ہو گئے ہیں جس نے اس عرصہ میں باتوں سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کی وہ اب آئندہ کی باتوں سے کیا فائدہ اُٹھائے گا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے لاکھوں نشانات دکھائے جس شخص نے ان نشانات سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کی آئندہ ظاہر ہونے والے نشانات اسے کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ امَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ ! کیا مؤمنوں کیلئے وقت نہیں آیا کہ خدا تعالیٰ کے ذکر اور خدا تعالیٰ کی خشیت سے ان کے دل ڈر جائیں؟ میں بھی یہی نوجوانوں کو کہتا ہوں کہ الَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ الله کیا ابھی باتوں کا وقت ختم نہیں ہوا ؟ اور کیا اب تک کام کا وقت نہیں آیا ، کیا اب تک کا فی نصیحتیں نہیں ہو چکیں جن کے بعد طریق عمل اور ہدایت کا رستہ واضح ہو جاتا ہے؟ اگر تمہارا طریق عمل یقینی طور پر واضح ہے تو زمانہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تم اپنی زندگی کو اس سانچہ میں ڈھالنے کی کوشش کرو اگر تمہاری آنکھیں کھلی ہیں۔ اگر تم اپنے اندر فکر کا مادہ رکھتے ہو تو تمہیں سوچنا چاہئے کہ مسلمان کیا تھے اور کیا بن گئے اور مسلمان کہاں تھے اور کہاں سے کہاں پہنچ گئے ۔ مسلمان نوجوان جغرافیہ پڑھتے ہیں ، نقشہ دیکھتے ہیں میں سمجھ نہیں سکتا کہ ان کے دل کیوں بیٹھ نہیں جاتے ، کیوں ان کے دلوں میں درد اور اضطراب پیدا نہیں ہوتا۔ ایک دن وہ تھا کہ