انوارالعلوم (جلد 18) — Page 345
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۴۵ کوئی احمدی ایسا نہیں ہونا چاہئے جسے قرآن کریم با ترجمہ نہ آتا ہو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ کوئی احمدی ایسا نہیں ہونا چاہئے جسے قرآن کریم با ترجمہ نہ آتا ہو ) فرموده ۹ رمئی ۱۹۴۶ ء بعد نماز مغرب بمقام قادیان ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دنیا کے تمام مذاہب میں سے اسلام کو ہی یہ فخر حاصل ہے کہ اس کی مذہبی اور الہامی کتاب یقینی اور قطعی طور پر محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ایسی حفاظت فرمائی ہے کہ دشمن سے دشمن بھی اس کے محفوظ ہونے کی شہادت دینے پر مجبور ہے اور قرآن کریم کا محفوظ ہونا اس کی اندرونی شہادت سے ایسا ثابت ہے کہ کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ اگر کوئی شخص گلاب کے پھول کی دو چار پنکھڑیاں نوچ کر پھینک دے تو گلاب کے پھول کی شکل ہی بتا دے گی کہ یہ اصل صورت نہیں ہے۔ دراصل قدرت کی پیدا کی ہوئی جتنی چیزیں ہیں وہ ساری کی ساری ایسی ہیں کہ اگر ان کا کوئی حصہ کاٹا گیا ہو تو اس کا فوراً پتہ لگ جاتا ہے۔ خربوزہ کتنی عام چیز ہے ایک پیسہ کے دو دو سیر بکتے تو ہم نے بھی دیکھے ہیں ۔ اگر کوئی شخص خربوزہ کا کچھ حصہ کاٹ لے تو کیا یہ چوری چھپ ہیں۔ اگر کوئی شخص کا حصہ لے یہ سکتی ہے آم کا ایک ٹکڑا اگر کوئی الگ کر دے تو کیا یہ ہو سکتا ہے کہ اس کا پتہ نہ لگے؟ انگور ، سردا، انا ر غرض جس قدر پھل یا ترکاریاں ہیں ان میں سے کسی میں ذرا بھی فرق کرو تو فوراً پتہ لگ جائے گا پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کے کلام میں دست اندازی کرے اور اس کا پتہ نہ چلے۔ اگر کوئی شخص دست اندازی کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ پہلی چیز میں کوئی نہ کوئی تبدیلی کرے اور کسی چیز میں تبدیلی ہمیشہ دو قسم کی ہو سکتی ہے۔ اوّل اتفاقی