انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 337

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۳۷ ہماری جماعت میں بکثرت حفاظ ہونے چاہئیں تو نہیں کہ ہاتھ میں کتا پکڑے پھریں۔ پادری نے کہا کچھ ہوش کی دوا کرو یہ تو بکری ہے بیچنے کے لئے بازار لے جا رہا ہوں ۔ اس نے کہا ہو گی مگر مجھے تو کتا ہی نظر آتا ہے۔ خیر پادری بڑ بڑاتے بڑ بڑاتے آگے چلا گیا ۔ سو گز دور گیا ہوگا کہ دوسرا آدمی ملا کہنے لگا پادری صاحب ! یہ کتا کہاں لے چلے ہیں وہ کہنے لگے کتا ؟ یہ کتا ہے یا بکری ؟ اس نے کہا آپ کی بات ماننی تو مشکل ہے مگر خیر آپ جو کہتے ہیں تو مان لیتا ہوں ورنہ ہے بالکل کتا۔ پادری صاحب پر کچھ اثر ہو گیا۔ کہنے لگے معلوم ہوتا ہے اس بکری کی شکل کتے سے بہت ملتی ہے اس لئے لوگوں کو دھوکا لگ رہا ہے ۔ تھوڑی د ڑی دور آگے گئے تو تیسرا آدمی ملا اور املا اور کہنے لگا پادری صاحب ! یہ کیا حرکت ہے کہ کتا ہاتھ میں پکڑے جا رہے ہیں ۔ پادری صاحب کہنے لگے کیا کروں ہے تو بکری مگر اس کی شکل کتے سے بہت ملتی ہے میں بھی جب دیکھتا ہوں تو کتا ہی نظر آتا ہے ۔ گویا پہلے تو صرف اتنا ہی خیال تھا کہ دوسرے لوگ اسے کتا سمجھتے ہیں مگر اب فرمانے لگے کہ مجھے بھی یہ کتا ہی نظر آتا ہے وہ کہنے لگا پادری صاحب سچی بات یہ ہے کہ یہ ہے ہی کتا کسی نے آپ کی سادہ لوحی دیکھ کر دھوکا دے دیا ہے۔ کہنے لگا شاید کتا ہی ہو ۔ تھوڑی دور اور آگے گئے تھے کہ چوتھا آدمی ملا اور اس نے کہا پادری صاحب ! یہ کیا کیا پکڑا ہوا ہے کہنے لگا کچھ شبہ والی بات ہے۔ کبھی خیال آتا ہے کہ یہ بکری ہے اور کبھی خیال آتا ہے کہ یہ کتا ہے۔ وہ کہنے لگا آپ اس شبہ کو جانے دیں یہ واقعہ میں کتا ہے۔ آپ جب منڈی جائیں گے تو لوگ ہنسیں گے کہ عجیب آدمی ہے کتا بیچنے کیلئے آ گیا ہے۔ پادری صاحب گھبرا گئے انہوں نے بکری چھوڑ دی اور استغفار کرتے ہوئے گھر آ گئے اور افسوس کرتے رہے کہ میری نظر اب اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ میں یہ شناخت بھی نہیں کر سکتا کہ میرے ہاتھ میں بکری ہے یا کتا ۔ جب پادری صاحب واپس لوٹے تو انہوں نے بکری لے لی اور اس کو ذبح کر کے خوب کباب وغیرہ کھائے ۔ یہ مثال اس بات کی ہے کہ پرو پیگنڈا سے کچھ کی کچھ شکل بدل جاتی ہے۔ ** بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی نظر حقائق کی طرف نہیں جاتی بلکہ دُہرائی تہرائی کی طرف چلی جاتی ہے ۔ اگر دس میں کسی چیز کو اچھا کہہ دیں تو وہ بھی اچھا کہنے لگ جاتے ہیں اور اگر وہ بُرا کہہ دیں تو وہ بھی بُرا کہنے لگ جاتے ہیں ۔ مثلاً اس وقت اسلام کو روپیہ کی ضرورت ہے