انوارالعلوم (جلد 18) — Page 303
انوار العلوم جلد ۱۸ ٣٠٣ پارلیمینٹری مشن اور ہندوستانیوں کا فرض نے کیا تھا اور اب کون سے نئے حالات پیدا ہو گئے ہیں جن کا طبعی نتیجہ وعدہ کی تبدیلی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔ جب تک وہ ایسا نہ کریں ان کا یہ کہہ دینا کہ اب حالات بدل گئے ہیں صرف متعلقہ جماعت کے دلوں میں شکوک اور جائز شکوک پیدا کرنے کا موجب ہوگا۔ اخلاق کی طاقت یقیناً انگلستان اور ہندوستان بلکہ تمام دنیا کی مجموعی طاقت سے بھی زیادہ ہے۔ پس اگر حقیقتاً حالات نہ بدلے ہوں تو گول مول الفاظ استعمال کرنے کی بجائے پارلیمینٹری وفد کو اعلان کرنا چاہئے کہ ہم سے پہلی حکومت بد دیانتی سے ہندوستانیوں کو لڑوانے کے لئے بعض اقوام سے کچھ وعدے کر چکی ہے جو ہم برسر اقتدار ہونے کے بعد پورا کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ لیکن یہ درست نہیں کہ وہ ایک ہی سانس میں پہلی حکومت کی دیانت کا بھی اظہار کرے اور اس کے وعدوں کو یہ کہہ کر توڑ بھی دے کہ بدلے ہوئے حالات میں وعدے بھی بدل جاتے ہیں ( حالانکہ جن حالات میں وہ وعدے کئے گئے تھے وہ بالکل نہ بدلے ہوں ) عوام الناس فقروں میں آجاتے ہیں لیکن عقلمند لوگ صرف فقروں سے دھوکا نہیں کھاتے ۔ تیسری بات میں مشن کے ممبروں سے یہ کہنی چاہتا ہوں کہ کوئی ایسی حالت پیدا کر دینا جس کے نتیجہ میں ایک اقلیت اپنے حقوق لینے سے محروم رہ جائے ، خود انگلستان کو ہی مجرم بنائے گا۔ انگلستان یہ کہہ کر بچ نہیں سکتا کہ اس نے یہ نتیجہ پیدا نہیں کیا۔ نتائج کی ذمہ داری ذرائع پیدا کرنے والے پر ہی ہوا کرتی ہے ۔ چوتھی بات کمیشن کے ممبروں سے میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ اگر وہ انصاف کو قائم رکھیں گے تو یقیناً ہندو مسلم سمجھوتہ کرانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ میں اس امر کا قائل نہیں کہ انگلستان کا بنایا ہوا ہندوستان اصل ہندوستان ہے لیکن میں اس امر کا بھی انکار نہیں کر سکتا کہ ہندوستان میں جس قدر اتحاد بھی باہمی سمجھوتہ سے ہو سکے وہ یقیناً ہندوستان اور دوسری دنیا کے لئے مفید ہوگا۔ میں برٹش امپائر کے اصول کا دیرینہ مداح ہوں میرے نزدیک برطانوی امپائر کا اصول اس وقت تک کی قائم کردہ انٹر نیشنل لیگ یا یو این اے سے بدرجہا بہتر ہے۔ اس کی اصلاح کی تو ضرورت ہے لیکن اس کا حصہ دار بننے کا نام غلامی رکھنا ایک جذباتی مظاہرہ تو کہلا سکتا ہے حقیقت نہیں کہلا سکتا ۔ مگر بہر حال ہندوستان کے مختلف حصوں کا باہمی تعاون اور ہندوستان کا