انوارالعلوم (جلد 18) — Page 287
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۸۷ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ کے مالک ہیں ۔ یہاں سے ایک نوجوان امریکہ بھاگ گیا تھا وہ ذہین تو تھا مگر یہاں اسے دین سے کوئی انس نہیں تھا۔ غیر ملک میں جا کر اسے دین سے بھی اُنس پیدا ہو گیا اور اس نے روپیہ بھی کمانا شروع کر دیا۔ یہاں سے وہ جہاز میں چوری چھپے بیٹھ کر گیا تھا راستہ میں پکڑا گیا تو اسے جہاز میں کوئلہ ڈالنے پر مقرر کر دیا گیا اس طرح وہ امریکہ پہنچا۔ ایک پیسہ بھی اس کے پاس نہیں تھا مگر اب وہ سال میں دو تین ہزار روپیہ چندہ بھیج دیتا ہے۔ ابھی تھوڑے ے دن ہوئے اس نے تحریک جدید جدید کے کے امان: امانت فنڈ میں تیس پینتیس ہزار روپیہ بھجوایا ہے اس کے علاوہ چھ سات ہزار روپیہ اس نے وصیت کا بھی بھیجا ہے حالانکہ یہاں سے وہ بغیر کسی پیسہ کے گیا تھا۔ غرض نو جوان اگر ہمت سے کام لیں تو غیر ممالک میں جا کر وہ ہزاروں روپیہ بڑی آسانی سے کما سکتے ہیں مگر میں حیران ہوں کہ ہماری جماعت کے بعض نو جوانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اگر ان کے سپرد کوئی کام کیا جائے تو اُس کو محنت سے سرانجام دینے کی بجائے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ قدم میں نے وقف زندگی کی تحریک کی اور میں نے بڑی وضاحت سے جماعت کے نوجوانوں کو بار بار سمجھایا کہ دیکھو ! تمہیں بطور حق کے ایک پیسہ بھی نہیں ملے گا تمہیں اپنے پاس سے کھانا کھانا پڑے گا، تمہیں پیدل سفر کرنا پڑے گا، تمہیں فاقے کرنا پڑیں گے تمہیں ماریں کھانی پڑیں گی ، تمہیں ہر قسم کی تکالیف برداشت کرنی پڑیں گی اور تمہارا فرض ہوگا کہ ان تمام حالات میں ثابت رہو اور استقلال سے خدمت دین میں مصروف رہو۔ ۔ یہ سبق میں اپنے خطبات میں دُہراتا اور بار بار دہراتا ہوں پھر میں اس پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ نوجوانوں کو خود انٹرویو کے لئے اپنے سامنے بلاتا ہوں اور کہتا ہوں دی اور کہتا ہوں دیکھو ! تم نے میرے خطبات تو پڑھ لئے ہوں گے اب پھر مجھ سے سن لو تمہیں کوئی پیسہ نہیں ملے گا کیا تمہیں منظور ہے؟ وہ کہتے ہیں منظور ہے۔ پھر کہتا ہوں تمہیں پیدل سفر کرنا پڑے گا کیا اس کے لئے تیار ہو ؟ وہ کہتے ہیں پوری طرح تیار ہیں ۔ پھر کہتا ہوں تمہیں جنگلوں میں جانا پڑے گا کیا اس کے لئے تیار ہو؟ وہ کہتے ہیں ہم جنگلوں میں جانے کے لئے لئے بھی تیار ہیں ۔ پھر کہتا ہوں تمہیں فاقے بھی آئیں گے کیا تم فاقہ کے لئے تیار ہو؟ وہ کہتے ہیں ہم فاقہ کے لئے بھی تیار ہیں۔ میں کہتا ہوں تمہیں لوگوں سے ماریں کھانی پڑیں گی کیا تم اس