انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 274

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۷۴ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد اپنے ہے کہ ہم نے دنیا پر غالب آنا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم نے کس ذریعہ سے اور کن طریقوں سے جیتنا ہے۔ اور پھر یہ بھی کہ اسلام کی اس فتح اور غلبہ میں ہمارا اور ہمارے عزیزوں کا کس قدر حصہ ہوگا میں تمہارے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا کہ تم اپنے دلوں میں کیا خیالات رکھتے ہولیکن میں متعلق کہہ سکتا ہوں کہ میرے دل میں یقیناً یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اسلام اور احمدیت کو جو فتح حاصل ہونے والی ہے اس میں میرا اور میری اولاد اور میرے پیاروں کا بھی حصہ ہو۔ مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت اخلاص کے اُس بلند مقام تک نہیں پہنچی جس کے بعد کوئی لغزش انسانی قدم کو متزلزل نہیں کر سکتی ۔ اگر تم سارے کے سارے اپنے دل میں یہ سمجھتے ہو کہ ہماری جماعت کا ہر فرد مخلص ہے تو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ یہ خیال درست نہیں ۔ اگر تم اپنے دماغ کا تجزیہ کرو، اپنے اعمال پر نظر ڈالو اور سلسلہ کے لئے جو کچھ تم سے مطالبات کئے جارہے ہیں اُن پر غور کرتے ہوئے اپنی قربانیوں کو دیکھو تو تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ تم میں سے ہر فرد مخلص نہیں ۔ کئی چھوٹی چھوٹی باتیں ایسی پیدا ہو جاتی ہیں جن سے سلسلہ سے حقیقی اخلاص اور محبت رکھنے والا کبھی ٹھو کر نہیں کھا سکتا مگر جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ان باتوں پہ ٹھوکر کھا جاتے ہیں اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جماعت کا ہر فرد مخلص ہے یا ہر فر د سلسلہ کے لئے قربانی کرنے کا انتہائی جذبہ اپنے دل میں رکھتا ہے لیکن بہر حال ایسے لوگ منہ سے تو میری طرف ہی اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں اور ان کی کمزوریاں۔ روریاں جماعت کے دوسر۔ ، دوسرے طبقہ پر اثر انداز ہوتی ہیں اس لئے ہم ان کی اصلاح سے غافل نہیں ہو سکتے ۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ رات کو جب مجھے اپنی جماعت کے اس کمزور طبقہ کا خیال آتا ہے تو میری نیند اڑ جاتی ہے اور میں گھنٹوں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ خدایا ! میں کیا کروں اور کس طرح اس طبقہ کی اصلاح کروں؟ میرے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے میں ان کے دلوں کے گند کو دور کر سکوں ۔ انسانی طاقت میں کسی کی اصلاح کے جس قدر ذرائع میں استعمال کرتا کرتا ہوں ۔ میں تعلیم قرآن بھی دیتا ہوں، میں قربانی کی روح پیدا کرنے کے لئے تقریریں بھی کرتا ہوں اور شاید میں نے اتنی تقریریں کر لی ہیں کہ اگر ان سب کو جمع کیا جائے تو بڑے سے بڑے مصنف کی کتابوں سے بھی بڑھ جائیں اور بیسیوں مجلدات اُن سے