انوارالعلوم (جلد 18) — Page 216
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۱۶ مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا نسلیں فنا ہوگئی ہیں ۔ یہی حال نٹال کا ہے وہ سب حبشی بے دخل ہیں، ان کی جائدادوں پر انگریزوں کا قبضہ ہے اور وہ ان کی خدمت گزاری کرتے ہیں ۔ بچپن میں جب ہم کھیلا کرتے تھے اور ہمیں کوئی گری پڑی چیز مل جاتی تو ہم اسے ہاتھ میں لے کر کہتے البھی چیز خدا دی نہ دھیلے دی نہ پا دی۔ بچپن کے لحاظ سے ہم سمجھتے تھے کہ یہ ایک ایسا منتر ہے کہ جس کے پڑھنے سے دوسرے کی چیز لے لینا جائز ہو جاتا ہے ۔ وہ دو یہی حال اُن لوگوں کا ہے ہم جو چیز اُٹھاتے تھے وہ تو چاک کا ٹکڑا یا گلی ہے یا اس طرح کی کوئی اور چیز ہوتی تھی جو حقیقت میں دھیلے بلکہ دمڑی کے برابر بھی نہ ہوتی تھی مگر یہ لوگ ملکوں کے ملک اپنے قبضہ میں لے کر کہتے ہیں لبھی چیز خدا دی“ ہندوستان کا ملک اُٹھایا اور کہہ دیا لبھی چیز خدا دی‘ افریقہ جو ہندوستان سے بھی بڑا ہے اُٹھایا اور کہہ دیا ولبھی چیز خدا دی کوئی ملک ایسا نہیں جو بھی چیز خدا دی“ میں شامل نہ ہو۔ میں ان کے اس جواب پر ہمیشہ حیران ہوتا ہوں کہ اتنے عقلمند ہونے کے باوجود شاید وہ سمجھتے ہیں کہ باقی دنیا پاگل ہے کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں اسے سمجھ ہی نہیں سکتی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگ ڈنڈے کے زور سے دبے ہوئے ہیں اور جانتے ہیں کہ اگر شور ڈالا تو جیل خانے میں جائیں گے ورنہ انہیں معلوم ہے کہ یہ تصرف بے جا ہے اور بہت بڑا بڑا ڈا ظلم ہے جس کا ارتکا کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ اس بارہ میں وہ کتنا بڑا نشان ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت نے دکھایا۔ عیسائی کہا کرتے ہیں کہ تاریخ میں آتا ہے کہ اورنگ زیب نے یہ ظلم کیا یا تاریخ کے فلاں صفحہ پر آتا ہے کہ اس نے اس طرح نا انصافیاں کیں یا فلاں مسلمان بادشاہ کے متعلق آتا ہے کہ اس نے فردوسی کے ساتھ ساٹھ ہزار اشرفیوں کا وعدہ کر کے صرف ایک ہزار اشرفی دی۔ مگر پچھلی باتوں کو چھوڑ دو کہ ان کی صحہ صحت یا عدم صحت کا ہم کو علم نہیں وہ ذرا موجودہ زمانہ میں ہی اپنی حالت تو دیکھیں وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے اس طرح ظلم کئے لیکن وہ اپنے آپ کو تو دیکھیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں ۔ - کیا وجہ ہے کہ جو قو میں مسلمانوں کے قبضہ کرنے سے پہلے موجود اور مسلمانوں کے چلے در ۔ جانے کے بعد موجود ر ہیں وہ انگریزوں کے زمانے میں مفقود ہو گئیں ۔ اسلامی نقطۂ نگاہ سے موجودہ دنیا کی عمر تو چھ ہزار سال ہے لیکن انگریزوں کے نقطۂ نگاہ سے دنیا کی عمر بیس لاکھ سال