انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 205

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۰۵ مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پروگرام بنایا مجھے تو کام سے غرض ہے کہ خدام نے نمازوں میں کتنی ترقی کی ، سادہ زندگی میں کتنی ترقی کی اور سادہ زندگی کے کن کن اصول پر انہوں نے عمل کیا ، تعلیم میں کتنی ترقی کی ، کتنے لڑکوں نے انٹرنس ، کتنے لڑکوں نے ایف ۔ اے اور بی۔ اے کے امتحان دیئے ، کتنے لڑ کے انٹرنس کے بعد کالجوں میں داخل ہوئے ، کتنے لڑکوں نے مڈل اور پرائمری کے امتحان دیئے، کتنے لڑکوں نے تبلیغ میں حصہ لیا ، ان کے ذریعہ کتنے آدمی احمدی ہوئے ، کتنے خدام نے زندگی وقف کی ۔ تھوڑے دن ہوئے میں نے تجارت کی تحریک کی ہے اور قادیان میں بیسیوں لڑکے ایسے ہیں جو بے کار ہیں اور ان کے ماں باپ گندم کے لئے منظوریاں لیتے پھرتے ہیں۔ عرضی میں لکھتے ہیں کہ میں سال کا لڑکا ہے مگر بے کار ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جس لڑکے کے والدین کی یہ حالت ہے وہ بے کار کیوں بیٹھا ہے ؟ محلہ کا پریذیڈنٹ سفارش کرتا ہے کہ یہ امداد کے بہت مستحق ہیں۔ میں کہتا ہوں ایسے لڑکے امداد کے مستحق نہیں بلکہ اس بات کے مستحق ہیں کہ اُن کو بید لگائے جائیں ۔ اسی طرح بعض لوگوں کے متعلق سفارش کی جاتی ہے کہ یہ فلاں کے گھر میں کام کرتے ہیں وہاں سے اُنہیں آٹھ روپے ملتے ہیں لیکن آٹھ روپے میں گزارہ نہیں ہوتا اس لئے اُن کو گندم دی جائے ۔ ایسے لوگوں کے متعلق بھی مجھے یہ خیال آتا ہے کہ اگر یہ لوگ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے تو کیوں پھیری کا کام نہیں کر لیتے ۔ پھیری والے ہر روز تین روپے کما لیتے ہیں ۔ ہے اگر کسی سے پوچھا جائے کہ آپ کا لڑکا کیوں بے کار ہے تو کہتے ہیں کہ فلاں قسم کا کام ملتا لیکن اُس کی مرضی ہے کہ مجھے اس قسم کا کام ملے تو میں کروں اس لئے بے کار ہے ۔ ( جلسہ کے دنوں میں ایک دوست ملے کہ میرے لڑکے کو چپڑاسی کروادیں میں نے کہا کہ گورنمنٹ ورکشاپ میں ملازم کروا دیتا ہوں دو چار سال میں اسی روپے کمانے لگے گا آپ چپڑاسی کیوں بنواتے ہیں؟ اس پر انہوں نے فرمایا کہ لڑکے کی مرضی چپڑاسی ہونے کی ہی ہے۔ ) ایسے لڑکوں کی عقلوں کو درست کرنا چاہئے اور انہیں بتانا چاہئے کہ بے کاری ایک ایسی چیز ہے جو جماعتی لحاظ سے اور شخصی لحاظ سے دونوں طرح سخت مضر ہے ۔ میرا خیال ہے کہ صرف قادیان میں سے دو تین سو آدمی ایسے نکل آئیں گے جو ایسے وقت میں جب کہ ہر طرف روز گار مل رہے ہیں بے کار بیٹھے اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔ وہ جماعت پر بار بن رہے ہیں ، وہ اپنے رشتہ داروں