انوارالعلوم (جلد 18) — Page xxii
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۹ تعارف کتب نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے کیونکہ ممکن ہے وہ موقع گزر جائے اور پھر توفیق نہ مل سکے۔ پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جب نیکی کا دور تم پر آئے تو اُس سے فائدہ اُٹھاؤ۔ جب تم نیکی کے ایک دور سے فائدہ اُٹھاؤ گے تو تمہارے لئے نیکی کا اگلا دور بہت سہل ہو جائے گا۔ (۳۰) ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں وہ ہمیں ماریں یا دکھ پہنچائیں چاہے وہ دتی کے ایک اخبار نے لکھا کہ احمدی پاکستان کی حمایت کر رہے ہیں حالانکہ ان کے ساتھ لستان کی حمایت کر رہے ہیں حالانکہ ان کے ساتھ دوسرے مسلمانوں نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ جب پاکستان بن جائے گا تو مسلمان پھر ان کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو کابل میں ان کے ساتھ ہوا تھا اور اُس وقت احمدی کہیں گے کہ ہمیں ہندوستان میں شامل کرلو۔ حضرت مصلح موعود نے مؤرخہ ۱۶ رمئی ۱۹۴۷ء کو بعد نماز مغرب قادیان میں اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں چاہے وہ ہمیں ماریں یا دُکھ پہنچائیں۔ نیز آپ نے فرمایا کہ:۔ ہمارا دشمن اگر ہمارے ساتھ ظلم اور بے انصافی بھی کرے تو ہم انصاف سے کام لیں گے۔ حضور کے اس خطاب کو صیغہ نشر و اشاعت نظارت دعوۃ و تبلیغ قادیان نے کتابی صورت میں شائع کیا تھا ۔ جسے اب انوار العلوم کی اس جلد میں شامل کیا جا رہا ہے۔ (۳۱) انصاف پر قائم ہو جاؤ حضرت مصلح موعود نے مؤرخہ ۱۷ رمئی ۱۹۴۷ء کو بعد نماز مغرب قادیان میں یہ خطاب