انوارالعلوم (جلد 18) — Page 107
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۰۷ اسلام کا اقتصادی نظام مطابق الگ الگ نظام قائم کر لیں ۔ مگر سب دنیا کمیونزم میں آجائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ چند حکومتی ٹرسٹ ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے اور وہ حالت موجودہ حالت سے بہت زیادہ خطرناک ہو جائے گی ۔ اس تبدیلی سے صرف یہ فرق پڑے گا کہ پہلے تو ہندوستان کے تاجر کا رشیا کے تاجر سے مقابلہ ہوا کرتا تھا مگر پھر ہندوستانی حکومت کے صنعتی ادارہ کا مقابلہ روسی حکومت کے صنعتی ادارہ سے ہوگا ۔ گویا اب تو جنگ کبھی کبھار ہوتی ہے اُس وقت ایک مستقل جنگ دنیا میں جاری ہو جائے گی ۔ ہر تجارتی قافلہ کا افسر در حقیقت ایک سفیر ہوگا اور ہر تجارتی مال اپنی حفاظت کے لئے اپنے ملک کی فوج اور اُس کا بیڑا ساتھ رکھتا ہوگا ۔ تجارتی نزاع تاجروں میں نہیں حکومتوں میں ہوں گے اور لین دین کے لئے کمپنیوں کے مینجر نہیں بلکہ حکومتوں کے وزیر خط و کتابت کریں گے ۔ اس نظام میں کسی چھوٹے ملک یا غیر منظم کو کوئی جگہ ہی نہیں مل سکتی ۔ چھوٹے ملک اور غیر منظم ملک اس نظام کے جاری ہونے پر اپنی حریت پوری طرح کھو بیٹھیں گے اور صرف بڑے ملکوں کی چراگاہیں بن کر رہ جائیں گے۔ اور جو ملک منتظم اور بڑے ہوں گے اُن میں پہلے کی طرح مقابلہ جاری رہے گا صرف فرق یہ ہوگا کہ پہلے تو زید اور بکر کا تجارتی مقابلہ ہوتا تھا آئندہ حکومت کا حکومت سے تجارتی مقابلہ ہوگا ۔ اگر یہ خیال کیا جائے کہ سب لوگ مل کر ایک با انصاف معاہدہ کر لیں گے تو یہ بھی درست نہیں ۔ آج کا روس کل کا روس نہیں اور کل کا روس آج کا روس نہ ہوگا ۔ جب اس کی صنعت و حرفت ترقی کرے گی اور جب اس کی دولت بڑھے گی وہ دوسروں سے اپنی دولت بانٹنے کے لئے تیار نہیں ہوگا بلکہ وہ تو آج بھی تیار نہیں ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ ایران کے تیل پر کیوں قبضہ کرنا چاہتا ۔ گو میں )THREE BIGS( بز روس کا فعل اپنے قول کے خلاف روس کا تھری بگو () شامل ہونا بھی اُس کے اپنے اصول سے ہٹنے پر دلالت کرتا ہے۔ آخر ان تین بڑوں کے علاوہ جو دوسری حکومتیں ہیں وہ کیا چیز ہیں ۔ سمجھ لو کہ طاقتور آدمی کے مقابل پر کمزور اور غریب آدمی کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ بیلجیئم کیا ہے؟ ایک کمزور اور غریب آدمی ۔ ہالینڈ کیا ہے؟ ایک کمزور اور غریب آدمی ۔ روس انگلستان اور