انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 104

انوار العلوم جلد ۱۸ اولد اسلام کا اقتصادی نظام بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ انگریزوں نے بھی تو ایران کے تیل کے چشموں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ میرا جواب یہ ہے کہ انہوں نے بھی اچھا نہیں کیا مگر میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر انگریزوں نے اچھا نہیں کیا تو روس نے بھی اچھا نہیں کیا ۔ تم اُس کو بھی گالیاں دو اور اس کو بھی بُرا بھلا کہو مگر یہ کیا کہ انگریز ایک کام کریں تو انہیں برا بھلا کہا جائے اور ویسا ہی کام روسی کریں تو انہیں کچھ نہ کہا جائے بلکہ اُن کی تعریف کی جائے ۔ اگر انگریزوں نے ابادان کے چشموں پر قبضہ کیا ہوا ہے تو روس کا مطالبہ بھی تو اس بات کا ثبوت ہے کہ اقتصادیات میں کمیونزم پرانے امپیریلسٹک کی پالیسی والے ملکوں سے کوئی جدا گانہ راہ نہیں رکھتا اور وہ بھی غیر ملکوں سے مساوات کا سلوک کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اگر وہ مساوات کے لئے تیار ہے تو کیا اگر ایرانی یہ مطالبہ کریں کہ ہمیں باکو کے چشموں سے فائدہ اُٹھانے دیا جائے تو روسی کہیں گے بہت اچھا آجاؤ اور باکو کے چشموں پر قبضہ کر لو؟ اگر مساوات کا سلوک کیا جاتا تو ایران سے کہا جاتا کہ تمہارا بھی حق ہے کہ مجھ سے مانگو اور میرا بھی حق ہے کہ میں تم سے مانگوں مگر روس اس طرف آتا ہی نہیں اور ابھی تو یہ ابتداء ہے جب کمیونزم کی صنعت وحرفت بڑھے گی دوسرے ملک اس طرح چلائیں گے کہ پہلے کبھی نہیں چلائے اور اس سے زیادہ ان کی صنعت کو کچلا جائے گا جس قدر کہ پہلے کبھی کچلا گیا ۔ کیونکہ کمیونزم نے صرف فردی کیپٹلزم کو کچلا ہے اجتماعی کیپٹلزم کو نہیں بلکہ اجتماعی کیپٹلزم کو اس قدر طاقت دے دی ہے کہ اس سے پہلے اسے کبھی نصیب نہیں ہوئی اور اجتماعی کیپٹلزم ہی سب سے زیادہ خطر ناک شے ہے ۔امریکہ نے ٹرسٹ سسٹم اور کارٹل سسٹم کے خلاف قانون اسی لئے پاس کیا ہے ۔ ایک خطرناک کیپٹلزم کا اجراء اقتصادی تجربہ اس بات کا شاہد ہے کہ انفرادی تاجر کبھی اتنے کامیاب نہیں اور اُس کے انسداد کی دو صورتیں ہوئے جس قدر کہ کمپنیاں ۔ اور کمپنیاں - کبھی اتنی کامیاب نہیں ہوئیں جس قدر کہ ٹرسٹ ۔ اور ٹرسٹ کبھی اتنے کامیاب نہیں ہوئے جس قدر کہ کارٹل ۔ اور کارٹل کبھی اتنے کامیاب نہیں ہوئے جس قدر کہ وہ کمپنیاں کامیاب ہوں گی جن کے پیچھے سارے ملک کی دولت اور سیاست ہوگی جیسا کہ روس میں کیا جا رہا ہے ۔ افراد کی