انوارالعلوم (جلد 18) — Page 102
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۰۲ اسلام کا اقتصادی نظام تک مٹا کرنے کی سکیم تیار کی جارہی ہے، ترکی سے آرمینیا کے حصوں کی واپسی اور درہ دانیال میں روسی نفاذ کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ کیا پُرانی امپیریل حکومتیں اس کے سوا کچھ اور کرتی تھیں؟ بلکہ کیا وہ اس سے زیادہ آہستگی اور بظاہر نرم نظر آنے والے طریق استعمال نہیں کرتی تھیں؟ انگلستان کو درہ دانیال کی ضرورت دیر سے محسوس ہو رہی ہے مگر اُس نے صدیوں میں ترکی پر اس قدر زور نہیں ڈالا جس قدر زور روس چند سالوں میں ڈال رہا ہے۔ اِن امور کے ہوتے ہوئے یہ خیال کرنا کہ روس اپنی صنعتی ترقی کے بعد اس طرح اپنے ہمسایہ ملکوں کو اقتصادی غلامی اختیار کرنے پر مجبور نہیں کرے گا جس طرح کہ مغربی ڈیما کریسی کے تجار اپنی حکومتوں پر زور ڈال کر اُن کے ذریعہ سے دوسرے ملکوں کو مجبور کرتے ہیں ایک وہم نہیں تو اور کیا ہے۔ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ جب روس کو طاقت حاصل ہوئی سیاسی مساوات اور حریت کے وہ تمام دعوے جو روس کرتا تھا دھرے کے دھرے رہ گئے اور اب اس دعویٰ کا نشان مٹا جا رہا ہے کہ روس کا دوسرے ممالک سے کوئی تعلق نہیں ۔ روس صرف اپنے ملک کے غرباء کی روٹی اور اُن کے کپڑے کا انتظام کرنا چاہتا ہے ۔ جب سیاسی دنیا میں آ کر کمیونزم کی رائے بدل گئی اور اُس نے خود اپنے بنائے ہوئے اصول کو اپنے ملک کے فائدہ اور برتری کے لئے واضح طور پر پس پشت ڈال دیا ۔ جارجیا ، بخارا، فن لینڈ ،لٹویا ، لیتھونیا، استھو نیا پر قبضہ کر لیا۔ فن لینڈ ، پولینڈ ، رومانیہ، زیکوسلواکیہ کو کم و بیش سیاسی اقتدار کے تلے لے آیا، ایران اور ترکی کو زیر اثر لانے کے لئے جوڑ تو ڑ کر رہا ہے، چین کے حصے بخرے کرنے کی تجویزیں ہو رہی ہیں آخر کس مساوات اور محمر بیت ضمیر کے قانون کے ماتحت اُس کے لئے یہ جائز تھا کہ ان ممالک پر قبضہ کرتا۔ کیوں فن لینڈ اپنے ملک کا ایک حصہ کاٹ کر روس کو دیتا۔ یا کیوں لٹویا اور لیتھونیا اور استھونیا کی آزادی کو سلب کر لیا جاتا ۔ کیا ان ممالک کا یہ فرض تھا کہ وہ وائٹ رشیا کی حفاظت کرتے اور اپنے آپ کو روس کے لئے قربان کر دیتے ۔ یا جار جیا اور بخارا کے فرائض میں شامل تھا کہ وہ روسی حکومت میں اپنے آپ کو شامل کر دیتے ۔ اگر حریت ضمیر اور مساوات اسے جائز قرار دیتے ہیں تو اس کے الٹ کیوں نہ ہوا۔ کیوں روس کا کچھ حصہ کاٹ کرفن لینڈ کو نہ دے دیا گیا تا وہ مضبوط ہو کر اپنی حفاظت کر سکے ، کیوں نہ کچھ حصے کاٹ کر پولینڈ ، رومانیا، ترکی اور