انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 91

انوار العلوم جلد ۱۸ ۹۱ اسلام کا اقتصادی نظام تبادلہ ہوتا ہے نہ کہ ایکسچینج ریٹ کے اصول پر ایسے طریق پر ڈھالا جا سکتا ہے کہ موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق وہ ہو جائے اور حکومتوں کا دخل اِس سے ہٹا دیا جائے ۔ بلکہ مختلف ممالک کے تاجروں اور حکومت کے نمائندوں کے مشورہ سے وقتاً فوقتاً مختلف ممالک کے لئے ایکسچینج کا ایک ایسا طریق مقرر کیا جائے جس کا بنیادی اصول تبادلہ اشیاء ہو نہ کہ کاغذی روپیہ کی مصنوعی قیمت پر۔ جرمنی نے گزشتہ جنگ کے بعد ایکسچینج (EXCHANGE) میں سیاسی دخل اندازی کر کے اپنے کاغذی روپیہ کو اس قد رستا کر دیا کہ سب دنیا کی دولت اس طرف کھنچی چلی آئی اور جب کافی سرمایہ غیر ملکوں سے تجارت کرنے کے لئے اُس کے پاس جمع ہو گیا تو اُس نے اپنے کاغذی سکہ کو منسوخ کر دیا اور اس طرح تمام دنیا کے ممالک میں بہت کم خرچ سے بہت بڑی رقوم غیر ملکی سکوں کی اپنی آئندہ تجارت کے لئے جمع کر لیں ۔ اگر بارٹر سسٹم ( تبادلہ اشیاء ) پر بین الاقوامی تجارت کی بنیاد ہوتی تو جرمنی اس طرح ہر گز نہ کر سکتا تھا۔ روس نے بھی جرمنی کی نقل : نہ ہونے کے میں ایکسچینج کو بہت گرا دیا لیکن بوجہ جرمنی جیسا ہو شیار نہ ہونے کے اور بوجہ صنعتی تنظیم نہ ہم اس نے فائدہ نہ اٹھایا در حقیقت مصنوعی شرح تبادلہ ایک زبر دستوں کا ہتھیار ہے جس سے وہ کمزور قوموں کی تجارت کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور غیر طبعی طریقوں سے تجارت کے بہاؤ کو اپنی مرضی کے مطابق جدھر چاہتے ہیں لے جاتے ہیں ۔ اس کا - روس نے اس نظام کو تسلیم کر لیا ہے اور اس طرح ملکی کیپٹلزم کی بنیاد کو قائم رکھا ہے ۔ کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جوں جوں روسی صنعت و حرفت مض مضبوط ہو گی کمیونزم زیادہ سے زیادہ اس ہتھیار سے کام لے گی اور کمزور ممالک کی تجارتوں کو اپنے مطلب اور اپنے فائدہ کے لئے استعمال کرے گی اور اس طرح گو مادی دولت کو جمع کر لے گی لیکن اصولی طور پر خود اپنے اصول کو توڑنے والی اور غریب اور کمزور ممالک پر ظلم کر نیوالی ثابت ہو گی ۔ کمیونزم کا اقتصادیات میں جبر سے کام لینا اقتصادی حصہ کو چلانے کیلئے (۷) ساتویں اِس نظام کے جبر سے کام لیا جاتا ہے جو آخر ملک کے لئے مضر ثابت ہوگا۔ کمیونزم کہتی ہے کہ دولت مندوں کی