انوارالعلوم (جلد 18) — Page 81
انوار العلوم جلد ۱۸ M اسلام کا اقتصادی نظام (۴) چونکہ زمین حکومت کی ہے اس لئے اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانا ضروری ہے۔ کا شتکار چونکہ حکومت کا نمائندہ ہے اُسے کاشت کے بارہ میں حکومت کی دخل اندازی کو تسلیم کرنا چاہئے ۔ اسلام میں حق ملکیت اسلام کی تعلیم جس کے اصول پہلے بتائے جاچکے ہیں اس بارہ میں یہ ہے کہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے حق ملکیت کو جو جائز طور پر ہو تسلیم کیا ہے مگر اس کے ساتھ یہ حکم دیا ہے کہ زمین کا مالک اپنی زمین کو اپنی اولاد میں ضرور تقسیم کرے (لڑکے کا ایک حصہ لڑکی کا نصف حصہ اور والدین کا ۱٫۳) اور کسی ایک بچے کے پاس نہ رہنے دے۔ اگر اولاد نہ ہو تب بھی وہ ماں باپ اور بہن بھائیوں میں تقسیم ہو۔ اگر وہ بھی نہ ہو تو اللہ تعالی کی نمائندہ حکومت کے پاس وہ زمین کوٹ جائے ۔۱٫۳ سے زائد کوئی شخص اپنی جائداد کو وصیت میں نہیں دے سکتا لیکن یہ ۳ را حصہ وارثوں میں سے کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔ کس قدر پر حکمت یہ تعلیم ہے۔ (1) بوجہ ملکیت کو تسلیم کرنے کے ہر شخص جس کے پاس زمین ہو گی اُسے بہتر طور پر کاشت کرے گا کیونکہ اس کے گزارہ کا مدار اس زمین پر ہو گا (۲) اس کے بچے یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس زمین پر کاشت کریں گے اس فن میں مہارت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ (۳) اگر زمین نسبتی طور پر زیادہ بھی ہو گی تو تقسیم وارثت کے ذریعہ سے لازماً کم ہوتی چلی جائے گی (۴) چونکہ اسلام زمین کو اللہ تعالیٰ کی ملکیت قرار دیتا ہے اس لئے نا جائز طور پر بہت سی زمین کسی کے پاس نہیں جاسکتی ۔ نا جائز سے مراد یہ ہے کہ اسلام کے سوا دوسرے نظاموں میں مفتوحہ ملکوں کی زمین بادشاہ کے ساتھیوں یا با رسوخ ہم قوموں میں تقسیم کر دی جاتی ہے۔ اسی نظام کی وجہ سے نارمنڈی B- اسے کے بادشاہوں نے انگلستان ، سکاٹ لینڈ اور آئر لینڈ کے بعض علاقوں کی زمینیں چند امراء میں تقسیم کر دیں اور باقی سب لوگ بغیر زمین کے رہ گئے حتی کہ لوگوں کو مکان بنانے کیلئے بھی زمین نہ ملتی تھی ۔ بلکہ پرانے قانون کے ماتحت لوگ مکانوں تک