انوارالعلوم (جلد 18) — Page 78
انوار العلوم جلد ۱۸ ۷۸ اسلام کا اقتصادی نظام منصفانہ طریق ہے یہ تو صریح یکطرفہ طریق ہے اور ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی کے باپ کے پاس جائے اور اُسے کہے کہ آپ بچے کو یہ نہ بتائیں کہ میں تمہارا باپ ہوں اور میں اُسے یہ نہیں کہوں گا کہ آپ اُس کے باپ نہیں ہیں اب بتاؤ اس کے نتیجہ میں بچہ کیا سیکھے گا ؟ یہی سمجھے گا کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے۔ یا ایک شخص مدرسہ میں جا کر اُستاد سے کہے کہ آپ بچے کو یہ نہ بتائیے کہ الف ہے اور میں اُسے یہ نہیں کہوں گا کہ یہ الف نہیں ۔ آپ بچے کو یہ نہ بتائیے کہ یہ با ہے اور میں اُسے یہ نہیں کہوں گا کہ یہ جا نہیں ۔ بتاؤ اس کے نتیجہ میں الف ،با کا علم پیدا ہو گا یا جہالت پیدا ہوگی ؟ یا ایک شخص کسی کے پاس جائے اور کہے کہ تم بچے کو یہ نہ بتاؤ کہ امریکہ ایک ملک ہے اور میں اُسے یہ نہیں کہوں گا کہ امریکہ ملک نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ آخر کیا ہوگا ؟ یہی ہوگا کہ اُسے امریکہ کا علم نہیں ہوگا ۔ غرض کوئی بھی معقول آدمی اس سودے کو انصاف کا سو دا نہیں کہہ سکتا۔ اور اس کی وجہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ ہے کہ مذہب مثبت ہے اور دہریت اگناسٹرم ہے یعنی نہ جاننے کا دعوی ۔ تعلیم کی نفی کی صورت میں اگناسٹک کا مدعا پورا ہو گیا اور نقصان صرف مثبت والے کو ہوا۔ پس یہ مساوات نہیں بلکہ دھو کے بازی ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے جو دنیا کے سامنے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ اسے ہم انسان کو قرآن کریم کے ذریعہ وہ علوم سکھائیں گے جن کو وہ اس سے پہلے نہیں جانتا تھا۔ پس جب کہ اسلام دعوی ہی یہ کرتا ہے کہ ہم وہ علوم تمہیں بتائیں گے جو اس سے پہلے تم نہیں جانتے تھے ۔ تو اگر تم کسی کو وہ علوم بتانے ہی نہیں دو گے تو تم ایک مسلمان کے برابر کس طرح ہو گئے ۔ تم تو اُس بے علم کو اس حالت میں لے گئے جو اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت کی حالت تھی اور مسلمان کو اس کے کام سے محروم کر دیا ۔ اسی طرح بعض اور بھی سوالات ہیں جو اس جگہ پیدا ہوتے ہیں مگر چونکہ میں اس وقت اُن سیاسی ، علمی اور علمی اور مذہبی سوالوں کو جو اقتصادیات ۔ بات سے جُدا ہیں نہیں چھو رہا اس لئے میں اُن کا ذکر نہیں کرتا ۔ مکمل امساوات نا ممکن ہے کمیونسٹ اقتصادیات کا جواثر مذاہب پر پڑتا ہے اُس ہے بعداً انے کی خرابیاں بتانے کے بعد اب میں یہ بتاتا ہوں کہ یہ نظام عقلاً بھی ناقص ہے۔ پوری مساوات کوئی شخص کر ہی نہیں سکتا ۔ صرف روپیہ ہی تو انسان کی