انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 63

انوار العلوم جلد ۱۷ ۶۳ اسوه حسنه کوشش نہ کی ۔ پھر خدا تعالیٰ اُن سے کہے گا دیکھو ! میں ایک دن ننگا تھا مگر تم نے مجھے کپڑا نہ دیا۔ تب بندے کہیں گے اے خدا ! یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تو ننگا ہو ۔ تو تو خود سب لوگوں کو لباس عطا فرماتا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے بندوں میں سے بعض لوگ ننگے پھرتے تھے مگر تم نے اُن کی طرف کوئی توجہ نہ کی ۔ اگر تم ایک ادنیٰ سے ادنی بندے کا ننگ ڈھانکنے کی طاقت رکھتے تھے مگر تم نے اس کا ننگ نہ ڈھانکا تو گویا میں ہی ننگا تھا مگر تم نے مجھے کپڑا نہ دیا۔ اس حدیث سے أتوا الزكوة کا مفہوم بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ یعنی میرے پیاروں سے پیار کرو۔ جب تم ایسا کرو گے تو میرا رنگ تم پر چڑھ جائے گا اور تم بھی میری صفات اپنے اندر جذب کر سکو گے ۔ کوشش کرو کہ تم میں اور تمہارے پھر فرماتا ہے۔ واعتصموا باللہ یہ دوگر ہم نے تم کو روحانی ترقی کے بتائے میں کوئی مغائرت باقی نہ رہے باقی نہ رہے ہیں اِن کو اختیار کرو اور اللہ تعالٰی خدا میں کو اس طرح چمٹ جاؤ جس طرح بچہ اپنی ماں کو چمٹ جاتا ہے تا کہ خدا تمہارے آگے بھی ہو اور پیچھے بھی ہو۔ تمہارے دائیں بھی ہوا اور تمہارے بائیں بھی ہو تا کہ جب کوئی شخص تم پر حملہ کرے تو اُس کے حملے کا وارتم پر نہ پڑے بلکہ خدا پر پڑے ۔ عصمت کے معنی ہوتے ہیں محفوظ ہو جانا اور اعتصام کے معنی ہوتے ہیں کسی کے ذریعہ سے محفوظ ہو جانا ۔ پس واعتصموا باللہ کے معنی یہ ہیں کہ تم اپنے آپ کو ہر قسم کے حملوں سے بچاؤ اس طرح کہ تم میں اور تمہارے دشمن میں خدا حائل ہو جائے اور جب وہ تم پر حملہ کرنے لگے تو یہ نہ سمجھا جائے کہ اُس نے تم پر حملہ کیا ہے بلکہ یہ سمجھا جائے کہ اُس نے خدا پر حملہ کیا ہے ۔ گزشتہ عالمگیر جنگ میں ایک شخص نے غلطی سے لفافہ پر الٹا ٹکٹ لگا دیا تھا۔ اس پر مقدمہ چلا اور مجسٹریٹ نے اُسے یہ کہتے ہوئے سزا دی کہ اس نے بادشاہ کی ہتک کی ہے حالانکہ بظاہر اُس نے بادشاہ کی ہتک نہیں کی تھی صرف ٹکٹ الٹا لگا دیا تھا۔ تو فرماتا ہے واعتصموا بالله تم خدا تعالیٰ کے اس طرح ہم شکل بن جاؤ کہ جب تم پر کوئی شخص حملہ کرے تو خدا تعالیٰ یہ سمجھے کہ وہ حملہ مجھ پر کیا گیا ہے اور وہ تمہیں بچانے کیلئے خود آگے آجائے ۔ غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ