انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 61

انوار العلوم جلد ۱۷ ۶۱ اسوه حسنه یہ اس لئے کیا تا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے نمونہ کے طور پر ہوں و تَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ اور تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ اختیار کر کے باقی سب دنیا کیلئے اپنے اپنے دائرہ میں نمونہ بن جاؤ۔ نماز اور زکوۃ کی ادائیگی فرماتا ہے جب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے اور تم باقی سب دنیا کیلئے نمونہ بن جاؤ تو فَاقِيمُوا الصَّلوةَ تم کو چاہئے کہ عبادت کر کے اپنے آپ کو اس قابل بنا لو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں خاص طور پر اپنی برکات سے حصہ دے اور تم پر اپنے قُرب کے انوار نازل کرے۔ یہ امر مسلمہ ہے کہ دو چیزیں جو ایک دوسرے کے قریب ہوں وہ ایک دوسرے کی صفات اور اس کے خواص کو اخذ کر لیتی ہیں ۔ لوگ کہتے ہیں خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑ لیتا ہے۔ اسی طرح پُرانے زمانہ میں لوگ کہا کرتے تھے گو ہم نے اس کا تجربہ نہیں کیا کہ شہد اور ایلوم کو پاس پاس رکھیں تو شہد میں کڑواہٹ کا اثر آجاتا ہے۔ علم الحیوانات سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ پرندے جس قسم کے درختوں میں رہتے ہیں ویسا ہی رنگ اُن کے جسم اختیار کر لیتے ہیں ۔ پھولوں میں رہنے والی تیتریاں کے پھولوں کی مناسبت سے اُن جیسا رنگ اختیار کر لیتی ہیں ۔ سبز پتوں میں بیٹھنے والے طوطے سبز رنگ کے بن جاتے ہیں ۔ اسی طرح جس قسم کے درخت کے پتے ہوں ویسی ہی سبزی یا نیلاہٹ پرندوں کے پروں میں آ جاتی ہے۔ دریاؤں میں رہنے والی مچھلیاں دریا کی مناسبت اور ریت کی چمک کی وجہ سے سفید رنگ کی ہوتی ہیں ۔ غرض یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جس قسم کے ماحول میں کوئی چیز رہتی ہے اُس کے نقش کو قبول کر لیتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب تم نے اللہ کا نقش قبول کرنا ہے تو فَأَقِيمُوا الصَّلوة تمہارا کام یہ ہے کہ تم نمازیں قائم کرو۔ احادیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نماز خدا اور بندے کے درمیان ملاقات کا ایک ذریعہ ہوتی ہے کے پس اس کے ذریعہ وہ الوہیت کا رنگ جو نبی کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ پیدا کرنا چاہتا ہے تم پر خوب چڑھ جائے گا اور تم بھی اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو جاؤ گے ۔ و أتوا الزكوة پھر اس کے ساتھ ہی ہم تمہیں یہ بھی حکم دیتے ہیں کہ جہاں ایک طرف