انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 615

انوار العلوم جلد ۱۷ ۶۱۵ المؤ پاؤں پر کھڑا کرنے اور مسیحیت کے گھلنے میں میرے گزشتہ یا آئندہ کاموں کا اِنْشَاءَ اللہ بہت کچھ حصہ ہوگا اور وہ ایڑیاں جو شیطان کا سر کچلیں گی اور مسیحیت کا خاتمہ کریں گی اُن ؟ اُن میں سے ایک ایڑی میری بھی ہوگی ۔ اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی ۔ - میں اس سچا سچائی کو نہایت گھلے طور پر ساری دنیا کے سامنے پیش کرتا ہوں ۔ یہ آواز وہ ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی آواز ہے۔ یہ مشیت وہ ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی مشیت ہے۔ یہ سچائی نہیں ملے گی نہیں ملے گی اور نہیں ملے گی۔ اسلام دنیا پر غالب آ کر رہے گا۔ مسیحیت دنیا میں مغلوب ہو کر رہے گی۔ اب کوئی سہارا نہیں جو عیسائیت کو میرے حملوں سے بچا سکے ۔ خدا میرے ہاتھ سے اس کو شکست دے گا اور یا تو میری زندگی میں ہی اس کو اس طرح کچل کر رکھ دے گا کہ وہ سر اُٹھانے کی بھی تاب نہیں رکھے گی اور یا پھر میرے بوئے ہوئے پیج سے وہ درخت پیدا ہو گا جس کے سامنے عیسائیت ایک خشک جھاڑی کی طرح مرجھا کر رہ جائے گی اور دنیا میں چاروں طرف اسلام اور احمدیت کا جھنڈا انتہائی بلندیوں پر اُڑتا ہوا دکھائی دے گا۔ میں اس موقع پر جہاں آپ لوگوں کو یہ بشارت دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اُس پیشگوئی کو پورا کر دیا جو مصلح موعود کے ساتھ تعلق رکھتی تھی۔ تھی۔ وہاں میں آپ لوگوں کو اُن ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں جو آپ لوگوں پر عائد ہوتی ہیں ۔ آپ لوگ جو میرے اس اعلان کے مصدق ہیں آپ کا اولین فرض یہ ہے کہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں اور اپنے خون کا آخری قطرہ تک اسلام اور احمدیت کی فتح اور کامیابی کے لئے بہانے کو تیار ہو جائیں ۔ بیشک آپ لوگ خوش ہو سکتے ہیں کہ خدا نے اس پیشگوئی کو پورا کیا بلکہ میں کہتا ہوں آپ کو یقیناً خوش ہونا چاہئے کیونکہ حضرت مسیح موعود میںکہتا یقیناً علیہ الصلوۃ والسلام نے خود لکھا ہے کہ تم خوش ہوا اور خوشی سے اُچھلو کہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی۔ پس میں تمہیں خوش ہونے سے نہیں روکتا۔ میں تمہیں اُچھلنے کودنے سے نہیں روکتا۔ بیشک تم خوشیاں مناؤ اور خوشی سے اُچھلو اور گو دو۔ لیکن میں کہتا ہوں اس خوشی اور اُچھل کود میں تم اپنی ذمہ داریوں کو فراموش مت کرو۔ جس طرح خدا نے مجھے رویا میں دکھایا تھا کہ میں تیزی کے ساتھ بھاگتا چلا جا رہا ہوں اور زمین میرے پیروں کے نیچے سمٹتی جا رہی ہے اسی طرح